1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت مذاکرات ختم، اہم تجارتی فیصلے

بھارت اور پاکستان نے باہمی تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے واہگہ سرحد کے راستے ایک اور روٹ فروری تک کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے کامرس سیکرٹریوں کے اجلاس میں تجارت سے متعلق مختلف امور طے کیے گئے۔

default

نئی دہلی میں دو روزہ تجارتی مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی ملک کو انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دینا ایک عمل ہے نہ کہ کوئی اعلان۔ اس عمل کے پہلے مرحلے میں پاکستان تجارتی اشیاء کی منفی فہرست کو مثبت فہرست میں تبدیل کرنے لئے صنعت کاروں اور تاجروں کے علاوہ متعلقہ افراد کے ساتھ مل کر اس پر کام کرے گا اور فروری 2012 تک منفی اشیاء کی فہرست تیار کرلی جائے گی۔ اندازہ ہے کہ 2012 کے اختتام تک ایسی تمام فہرستیں ختم کر دی جائیں گی جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

دونوں ملکوں نے بھارت سے پاکستان کو بجلی اور پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کا ایک گروپ امرتسر کے راستے پاکستان کو 500 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے طریقہ ء کار پر غور کرے گاجب کہ پٹرولیم مصنوعات کے متعلق ایک جوائنٹ گروپ جنوری 2012 میں اپنی پہلی میٹنگ کرے گا۔

Pakistanische Gefangene am Grenzübergang Attari-Wagah

بھارت اور پاکستان نے باہمی تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے واہگہ سرحد کے راستے ایک اور روٹ فروری تک کھولنے پر اتفاق کیا ہے

بھارت اور پاکستان کے کامرس سیکرٹریوں کی دو روزہ بات چیت خوشگوار ماحول میں مکمل ہوئی۔ 15 رکنی پاکستانی وفد کے سربراہ کامرس سیکرٹری ظفر محمود نے اپنے بھارتی ہم منصب راہل کھلر کے اس مؤقف کی تائید کی کہ صرف تجارت کے ذریعہ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے مگر یہ اسٹریٹیجک اور سیاسی امور جیسے دیگر مسائل کے حل میں تیزی لانے میں معاون ضرور ثابت ہوسکتی ہے۔

راہل کھلر نے بھارت کو انتہائی مراعات یافتہ (MFN) ملک کا درجہ دیے جانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تاہم یاد دلایا کہ نئی دہلی نے بھی چند ماہ قبل سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو یورپی یونین کی طر ف سے دیے جانے والے مراعاتی پیکج پر ڈبلیو ٹی او میں اپنا اعتراض واپس لے لیا تھا۔

دونوں ملکوں کے کامرس سیکرٹریوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کی داخلی امور کی وزارتیں اپنی اگلی بات چیت میں تجارت پیشہ افراد کو ویزا کے ضابطوں میں رعایت دینے کے بارے میں ضرور کوئی فیصلہ کریں گی۔

راہل کھلر نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو 2.7 بلین ڈالر سے اگلے تین برس میں چھ بلین ڈالر کرنے کے عہد کا اعادہ کیا۔

ادھر وزیر دفاع اے کے انٹونی نے زیادہ حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات سے زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں کسی معجزے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ بھارت اور پاکستان کے مابین تجارتی تعلقات میں مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا آغاز  ہے’لیکن فی الحال اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے‘۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM