1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت مذاکراتی عمل: اعتماد میں کمی حائل

بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کو اپنے مشرقی پڑوسی پر کڑی نظر رکھنے کے سلسلے میں امریکی حمایت حاصل ہے۔

default

بھارتی اور امریکی وزرائے خارجہ

واشنگٹن میں موجود بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان کے ساتھ معاملات امیدوں کے مطابق تو نہیں تاہم پھر بھی ہم ہمت نہیں ہار رہے اور ان سے رابطے رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ ایک پریس کانفرنس میں کرشنا نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ وہ کہتے ہیں کہ آپ ممبئی حملوں کے ذمہ داران کو سزا دیں ہم تعلقات کی بحالی کی جانب آدھے سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

ایس ایم کرشنا اگلے ماہ کی پندرہ تاریخ کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ سن 2008ء کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد کسی اعلیٰ بھارتی حکومتی عہدیدار کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ کرشنا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لئے اہم ہے۔ کرشنا کے بقول دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا اسی وقت بحال ہوگی جبکہ ملاقاتوں کے سلسلے میں تسلسل ہوگا۔

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی امریکی ہم منصب، ہلیری کلنٹن کے ساتھ پاکستان سے متعلق بھارت کے خدشات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایس ایم کرشنا نے صحافیوں کو بتایا کہ :’’ مجھے جو پیغام امریکی انتظامیہ کی

Clinton in Indien mit Minister Krishna

امریکی اور بھارتی وزرائے خارجہ ایک سابقہ ملاقات میں: فائل فوٹو

جانب سے ملا وہ یہ تھا کہ امریکہ، پاکستان سے متعلق ہمارے خدشات سے باخبر ہے، اور وہ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس سے بھارت کے مفادات کو ٹھیس پہنچے۔‘‘

یاد رہے کہ امریکی کانگریس نے گزشتہ سال پاکستان کے لئے ساڑھے سات ارب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دی تھی۔ نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ پاکستان کے لئے امریکی امداد، بالخصوص دفاعی سازوسامان کی فراہمی شدت پسندوں کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے بھارت کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔ طالبان سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بلاشبہ طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے تاہم اگر وہ تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے دیگر دہشت گرد تنظیموں سے رابطے منقطع کردے تو انہیں مرکزی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سٹرٹیجیک مذاکرات میں امریکی صدر باراک اوباما نے بھارت کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی حکومت کے مطابق سردجنگ کے خاتمے کے بعد بھارت میں جو سیاسی ومعاشی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں اس کے تحت امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کی سیکریٹری نروپما راؤ کے بقول چاہے معاملہ بڑھتی دہشت گردی کا ہو، یا توانائی اور خوراک کی سلامتی کا دونوں ملکوں کے مفادات یکساں ہیں۔ ان کے بقول اس ضمن میں بھارت کے لئے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول میں امریکی معاونت کی کوشش سٹریٹیجک مذاکرات کا حصہ ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM