1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک، بھارت سرحدی حفاظتی دستوں کی میٹنگ

بھارت اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ملکوں کے سرحدی حفاظتی دستوں کی دہلی میں آج سے دو روزہ میٹنگ شروع ہوئی ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے جب میڈیا کو اتنی اہم میٹنگ سے دور رکھا گیا ہے۔

پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کے درمیان اس اعلٰی سطحی میٹنگ کا مقصد دونوں فورسز کے درمیان ایک دوسرے کے متعلق پائی جانے والی شکایتوں کو دور کرنا اور بین الاقوامی سرحد پر، جسے پاکستان ورکنگ باؤنڈری کہتا ہے،  امن و سکون کو برقرار رکھنا ہے۔ دونوں ممالک کی فوج ایک دوسرے پر سرحدی علاقوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتی رہتی ہے۔


یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہورہی ہے جب بھارت او رپاکستان کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں اڑی میں بھارت کی ایک فوجی چھاونی پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد جس میں انیس بھارتی جوان مارے گئے تھے، جوہری طاقت رکھنے والے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور سرحد پر ہونے والے آئے دن کے تصادم نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سطح کی اس چوالیسویں میٹنگ میں پاکستان کے انیس رکنی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل آف رینجرز (سندھ) میجر جنرل محمد سعید کررہے ہیں، جب کہ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما بھارتی وفد کے قائد ہیں۔
امید کی جارہی ہے کہ اس میٹنگ میں سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، شہریوں اور بالخصوص سرحدی علاقوں میں اسکولوں کو نشانہ بنانے، منشیات اور ہتھیاروں کی غیر قانونی اسمگلنگ نیز غلطی سے اور بے خیالی میں سرحد پار کر کے ایک دوسرے کے علاقے میں چلے جانے افراد سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سطح کی بات چیت کے لیے پاکستانی وفد کل آٹھ نومبر کو ایسے وقت دہلی پہنچا جب نریندر مودی حکومت نوٹ بندی کی سالگرہ منارہی تھی۔ اور مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی اعانت اور پاکستان کی طرف سے بھارت میں جعلی کرنسی بھیجنے کے واقعات کو روکنے میں مدد ملی ہے۔
یہاں حکومتی ذرائع کے مطابق میٹنگ میں بی ایس ایف بھارت اور پاکستان کے درمیان 2003 میں ہوئے جنگ بندی معاہدہ کا احترام کرنے پر زور دے گا۔ بھارت، پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے شہریوں کی اموات اور زخمی ہونے کا معاملہ اٹھائے گا۔ وہ پاکستانی فوج اور پاکستان رینجرز کی مدد سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی بھارتی علاقے میں مبینہ دراندازی کا معاملہ اور سرحدپر پائی گئی زیر زمین سرنگوں کا معاملہ بھی اٹھائے گا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارتی فوج نے سرحد پر ایسی کئی زیر زمین سرنگوں کا پتہ لگانے کا دعوی کیا ہے جن کا دوسرا سرا پاکستان سے ملتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان 3323 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو چار صوبوں جموں و کشمیر، راجستھان، پنجاب اور گجرات سے ہوکر گزرتی ہے۔

Indische Soldaten an der Grenze zwischen Indien und Pakistan

دونوں ممالک کی فوج ایک دوسرے پر سرحدی علاقوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتی رہتی ہے


خیال رہے کہ ماضی میں بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی رینجرز کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کرتی رہی ہے۔
امید ہے کہ پاکستانی وفد دس نومبر کو وطن واپس لوٹنے سے قبل وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بھی ملاقات کرے گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل دونوں ملکوں کی فورسز کی گزشتہ سال جولائی میں میٹنگ ہوئی تھی ۔ گو یہ میٹنگ سال میں دو بار ہونا طے ہے تاہم باہمی تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے کئی ماہ کی تاخیر سے یہ میٹنگ ہو رہی ہے۔
دریں اثنا پاکستان میں بھارت کے سابق سفیر گوتم بمباوالے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ پاکستان سرحد پار سے جاری دہشت گردی بند نہیں کردیتا ہے۔ گوتم بمباوالے کا کہنا تھا، ’’موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔‘‘

DW.COM