1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت خارجہ سیکرٹری ملاقات، کشمیر اور دہشت گردی پر بات

جوہری طاقت رکھنے والے دو دیرینہ حریفوں بھارت اور پاکستان نے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کے تحت خارجہ سیکرٹری سطح پر بات چیت کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کیا ہے۔

Indien Neu Delhi S Jaishankar (L) Aizaz Chaudhry

بھارتی خارجہ سیکرٹری ایس جے شنکر (بائیں) اور ان کے پاکستانی ہم منصب اعزاز احمد چوہدری (دائیں) کے درمیان ملاقات کا ایک منظر

بھارتی خارجہ سیکرٹری ایس جے شنکر اور ان کے پاکستانی ہم منصب اعزاز احمد چوہدری کے درمیان بھارتی وزارت خارجہ کے دفتر ساؤتھ بلاک میں ڈیڑھ گھنٹے کی بات چیت کے دوران دو طرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہٴ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات کے بعد یہاں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اعزازاحمد چوہدری نے کشمیر سمیت تمام حل طلب امور پر تبادلہٴ خیال کیا ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر اب بھی فوری طور پر حل طلب بنیادی مسئلہ ہے، یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں اورکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

پاکستان نے کراچی اور بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را (ریسرچ اینڈ انیلیسز ونگ)کی مبینہ مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تخریبی سرگرمیاں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بیان کے مطابق پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی خفیہ ادارے ‘را’ کے ایجنٹ کل بھوشن جادھو کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ دوسری طرف کل بھوشن کے معاملے پر بھارت نے کڑا رخ اپنایا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل بھوشن جادھو کو اغوا کر کے پاکستان لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی بحریہ کے سابق افسر جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔

اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کے دوران بعض سرگرمیاں ان کوششوں کو متاثر کرتی ہیں۔ پاکستان نے بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں 2007ء میں ہونے والے دھماکوں کے اہم ملزم لیفٹیننٹ کرنل پروہت کی رہائی کے لیے بھارت میں بننے والے ماحول پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کئی بار درخواست کے باوجود بھارت نے تحقیقاتی رپورٹ کا تبادلہ نہیں کیا، اس سانحے میں 42 پاکستانی شہریوں سمیت 64 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی خارجہ سیکرٹری نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اسی طرح اعلیٰ سطحی ربط جاری رکھ کر باہمی اعتماد میں اضافہ کریں گے اور بات چیت کا عمل آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

دوسر ی طرف میٹنگ کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خارجہ سیکرٹری نے پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کی انکوائری اور ممبئی دہشت گردانہ حملوں سے متعلق مقدمات میں جلد اور واضح پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا ۔ جے شنکر نے واضح طور پر کہا کہ باہمی تعلقات پر دہشت گردی کے اثرات سے پاکستان انکار نہیں کر سکتا۔

Indien Treffen des indischen und des pakistanischen Außenministers in Neu-Delhi

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری اعزاز چوہدری (دائیں) سالانہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی میں ہیں

خیال رہے کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان 14-15جنوری کو باہمی مذاکرات ہونے والے تھے لیکن 2 جنوری کو بھارتی فضائیہ کے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد یہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری افغانستان پر ہونے والی سالانہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی آئے تھے تاہم یہ ملاقات اس کانفرنس سے ہٹ کر ہوئی۔ پچھلی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس 2015ء میں اسلام آباد میں ہوئی تھی، جس میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے حصہ لیا تھا۔

دونوں ملکوں نے ماہی گیروں اور ایک دوسرے کی جیلوں میں بند قیدیوں کے معاملات کو انسانی بنیادوں پر دیکھنے سے اتفاق کیا۔

اس میٹنگ کے حوالے سے اپوزیشن کانگریس کے سینیئر رہنما اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر آنند شرما نے کہا کہ پارٹی اس طرح کے مذاکرات کے خلاف نہیں ہے لیکن اس حوالے سے واضح پالیسی اور طریقہٴ کار ہونا چاہیے ۔ دوسری طرف مودی حکومت کی حلیف شدت پسند ہندو جماعت شیو سینا نے ان مذاکرات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام سب کو معلوم ہے اور اس طرح کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔