1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت تناؤ: کیا سیاسی قیادت متحد ہو سکے گی؟

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کی قیادت کی ہے۔ اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر تناؤ اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

پیر کے روز اس اجلاس کا مقصد پاکستانی سیاسی قیادت کی جانب سے دنیا کو لائن آف کنٹرول پر جنگی کیفیت اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری مظاہرین پر تشدد کے بارے میں آگاہ کرنا بتایا گیا ہے۔

پاکستانی نیوز چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم، سینیئر سیاسی قائدین اور اپوزیشن کے اراکین اجلاس میں شریک ہیں۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر سیاست دانوں کو بریفنگ دی۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق حزب اختلاف کے رکن شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’وزیراعظم مجھے آپ کی فہم و فراست اور آپ کی حب الوطنی پر پورا یقین ہے۔ آپ نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے حوصلہ افزا اقدامات کیے۔‘‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے تقریر انتہائی جامع اور قابل تعریف ہے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہ، ’’پیپلزپارٹی واضح موقف لیتے ہوئے حکومت کی حمایت کرے گی۔ مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت پر ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔‘‘ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کےمعاملات پرمقاصد مل کر کام کرنے سے ہی حاصل ہوسکتے ہیں، اور یہ کہ ایک متحد پاکستان ہی بھارتی ’’جارحیت‘‘ کا بھرپور مقابلہ کرسکتا ہے۔

پارلیمانی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس میں تمام سیاسی رہنماؤں کی رائے کو سنا۔ نواز شریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی تجاویز کی روشنی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

ادھرپاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے آج صبح ایک بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے نیزہ پیر سیکٹر پر ’’بلا اشتعال فائرنگ‘‘ کی گئی۔ فائرنگ کا سلسلہ رات ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوا۔ اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان  نفیس ذکریا نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب افتخار آباد سیکٹر میں انڈیا کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب فائرنگ کی گئی۔ نفیس ذکریا کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں انڈیا کی جانب سے فائربندی کے معاہدے کی یہ تیسری خلاف ورزی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین فائرنگ کا سلسلہ اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ہی پیش آیا ہے جس میں عسکریت پسندوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بارہ مولا سیکٹر میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک اہل کار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ 18 ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی سیکٹر پر عسکریت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کرکے بھارت داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔  دونوں ممالک میں کشیدگی مزید اس وقت بڑھی جب چند روز قبل بھارتی افواج کی فائرنگ سے پاکستان کی فوج کے دو سپاہی ہلاک ہو گئے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ایک ’سرجیکل اسٹرئیک‘ سے حملہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔