پاک بھارت تعلقات میں رکاوٹ عوام یا حکومتیں؟ | معاشرہ | DW | 03.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاک بھارت تعلقات میں رکاوٹ عوام یا حکومتیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ہمسایہ ملکوں کے عوام کی اکثریت موجودہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتی ہے لیکن حکومتوں کے اپنے مسائل عوامی رابطوں کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔

کراچی کونسل آف فارن ریلیشن کی جانب سے منعقدہ سمینار میں وزیر اعظم نواز شریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے علاوہ بھارت کے سابق یونین وزیر اور کانگریسی رہنما مانی شنکر آئیر کو بھی خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے مانی شنکر نے کہا کہ بھارتی عوام کی اکثریت پاکستان کےساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش مند ہے اور مذاکرات کی میز پر ہی دونوں ممالک کے درمیان تنازعات حل ہوسکتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کو نئی دہلی اور اسلام آباد کےعلاوہ بھی ویزا آفسز کھولنے چاہییں لیکن حکومتی تنازعات عوامی رابطوں میں رکاوٹ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اندرا گاندھی بھی مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بات کرتی تھیں۔ پاکستان صرف حریت کانفرنس کو مذاکرات شامل کرنا چاہتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پوری کشمیری قیادت سے بات ہونی چاہیے، ’’صرف سرنگر کیوں، جموں اور لداغ کی قیادت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ملک مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں تو متنازعہ امور تین سال نہیں تین ماہ میں نہیں، تین ہفتوں میں حل ہو سکتے لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری میں میڈیا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

سیمنار سے خطاب میں سابق وزیر قانون چودھری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ باہمی تنازعات کے حل میں تاخیر سے پاک بھارت تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، ’’دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حل ہونا بہت ضروری ہے، سمجوتا ایکسپریس، گجرات سانحہ اور بابری مسجد ایسے واقعات سے اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں لہذا ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے وسائل غربت کے خاتمے کے لئے استعمال ہونے چاہئیں۔‘‘

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی سے پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے نا امیدی درست نہیں، ’’دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنا کر تجارتی حجم کو بڑھانا ہوگا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دونوں ممالک میں مذاکرات کا فریم ورک تیار ہوگیا تھا لیکن بدقسمتی رہی کہ معاملات پھر بگڑ گئے۔

سمینار کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خورشید محمود قصوری نے کہا کہ بھارت میں غلام علی کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ قابل افسوس ہے لیکن خطرات کے باوجود بھی بھارتی شہریوں نے غلام علی کو پرفارم کرنے کی دعوت دی، جو قابل ستائش ہے۔ انہوں نے تعلقات میں بہتری کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کی کوششوں کو بھی سراہا، ’’دونوں ممالک کے عوام تعلقات کی بہتری کے لئے پر امید ہیں۔‘‘

پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمیشنر ٹی سی راگھوان نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت وہ واحد پڑوسی نہیں ہیں، جن کے تعلقات کشیدہ ہیں، دنیا کے کئی دیگر ممالک کے درمیان بھی کشیدہ حالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھارت کی طرف سے مذاکرات میں پہل کی گئی تھی۔ دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی معاون برائے امور خارجہ طارق فاطمی کہتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات خطے کے امن کے لئے بہت اہم ہیں لیکن مسائل پر بات چیت کے لئے بھارت نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں عوامی رابطوں، کرکٹ، اداکاروں کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔‘‘

ان کا سوالیہ انداز میں کہنا تھا کہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے پیچھے بھارت کے کیا مقاصد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہے اور مذاکرات سے مسائل حل کرنا چاہتا ہے لیکن سارے مسائل کوئی ایک ملک حل نہیں کر سکتا۔