1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت تجارتی تعلقات میں اہم پیش رفت

پاکستا ن کے وزیر تجارت گذشتہ 35 برس میں پہلی مرتبہ بھارت کے دورے پر ہیں، جسے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کی سرد مہری کو ختم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم

وزیر تجارت مخدوم امین فہیم

بھارت نے بھی اپنے پڑوسی کو ایک اہم رعایت دیتے ہوئے پاکستان کو 900 ملین ڈالر کے تجارتی پیکج دینے کی یورپی ملکوں کی تجویزکی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر تجارت آنند شرما نے اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم کے ساتھ بات چیت کے بعد بتایا کہ بھارت نے یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو سیلاب راحت پیکج کے تحت ٹیکسٹائل مصنوعات میں دی جانے والی رعایت کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ڈبلیو ٹی او کی اگلی میٹنگ میں ہم اس پیکج کی حمایت کریں گے۔‘‘

بھارت نے اس سے قبل ڈبلیو ٹی او کی جنرل کونسل سے کہا تھا کہ اس طرح کے پیکج سے اس کے تجارتی مفادات متاثر ہوں گے کیونکہ اسے یورپی یونین کو ٹیکسٹائل مصنوعات پر 6 تا 12فیصد امپورٹ ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ہم کھلے ذہن اور تعمیری انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور اپنے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ ‘‘

بھارتی وزیر برائے کامرس اینڈ انڈسٹری آنند شرما

بھارتی وزیر برائے کامرس اینڈ انڈسٹری آنند شرما

پاکستان کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کی قیادت میں پاکستانی صنعت و تجارت کا ایک بڑا وفد ان دنوں بھارت میں ہے۔ اس وفد میں پاکستانی کارپوریٹ سیکٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں سے وابستہ بڑی شخصیات شامل ہیں۔ وفد یہاں صنعت و تجارت کی تنظیموں، فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری جیسی تنظیموں سے باہمی دلچسپی کے امور اور تجارت کو فروغ دینے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

دونوں ملکوں نے باہمی تجارت کی موجودہ سطح 2.7 ارب ڈالر سالانہ کو بڑھا کر دوگنا سے بھی زیادہ کر کے چھ ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ مخدوم فہیم اور آنند شرما نے کہا کہ باہمی تجارت کے فروغ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام اور جنوبی ایشیا کی خوشحالی میں بھی اضافہ ہوگا۔

دونوں ملکوں نے ڈبلیو ٹی او اور سارک جیسے کثیر ملکی فورمز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اور ایک دوسرے کے مفادات کی حمایت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے تجارت کے فروغ کے لئے کامرس سیکرٹریوں کی طرف سے اس سال اپریل میں پیش کردہ روڈ میپ اور اس پر ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں کے کامرس سیکرٹریوں کی میٹنگ آئندہ نومبر میں ہو گی، جس میں تجارتی تعلقات کو ایک مقررہ مدت کے اندر معمول پر لانے کے سلسلے میں بات ہو گی۔

بھارت نے یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو سیلاب راحت پیکج کے تحت ٹیکسٹائل مصنوعات میں دی جانے والی رعایت کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے(تصویر میں تکنیکی تعاون کی جرمن تنظیم کا ایک وفد لاہور میں واقع ایک پاکستانی ٹیکسٹائل مل کے دورے پر)

بھارت نے یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات میں دی جانے والی رعایت کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے (تصویر میں ایک جرمن وفد لاہور میں واقع ایک پاکستانی ٹیکسٹائل مل کے دورے پر)

بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا آزاد تجارتی معاہدہ (سافٹا) کو نافذ کرے تاکہ پاکستانی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کی رسائی آسانی سے ہو سکے۔ دوسر ی طرف پاکستان بھی مختلف مصنوعات پر عائد پابندیوں کو ختم کرانا چاہتا ہے۔ اس وقت 12000 سے زائد بھارتی مصنوعات پاکستان کے منفی فہرست میں شامل ہیں جب کہ صرف 1948 مصنوعات ہی مثبت فہرست میں شامل ہیں۔

 دونوں پڑوسیوں نے ویزے کے ضابطوں کو بھی سہل بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں نے امید ظاہر کی کہ ویزے سے متعلق دیگر معاملات نومبر 2011 تک حل کر لیے جائیں گے۔ نئے ویزا ضابطوں کے مطابق ایک سال کی مدت کے دوران Multiple Entry کی اجازت ہوگی۔ دونوں ملکوں کو امید ہے کہ اس نئی پیش رفت سے باہمی تجارت کو فروغ دینے میں کافی مدد ملے گی۔

 

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: امجد علی

DW.COM