1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک، بھارت امن مذاکرات بحال

ممبئی دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے نومبر 2008 سے تعطل کا شکار پاکستان، بھارت جامع مذاکرات دوبارہ پٹڑی پر لوٹ آئے ہیں۔ دونوں ملک مسئلہ کشمیر اور انسداد دہشت گردی سمیت آٹھ نکاتی امور پر بات چیت کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

default

پاکستانی خارجہ سکریٹری سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب کے ساتھ

بھارتی خارجہ سکریٹری نروپما راؤ اور پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر کے درمیان چھ فروری کو بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں سارک خارجہ سکریٹری کانفرنس کے موقع پر ہونے والی بات چیت سے ان دونوں پڑوسیوں کے درمیان گذشتہ 26 ماہ سے جاری تعطل ختم ہوا اور جامع مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔

یہاں بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعرات کو جاری ایک بیان میں دونوں خارجہ سکریٹریوں کے درمیان ملاقات کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک تمام امور پر بات چیت کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر‘ انسداد دہشت گردی‘ اعتمادسازی کے اقدامات بشمول امن و سلامتی‘ دوستانہ وفود کے تبادلے کے فروغ‘ سیاچین‘ اقتصادی امور ‘ وولر بیراج ، تل بل نیوی گیشن پروجیکٹ اور سرکریک جیسے امور شامل ہیں۔

Außenminister von Indien und Pakistan Somanahalli Mallaiah Krishna und Shah Mehmood Qureshi

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس سال جولائی تک بھارت کا دورہ کریں گے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس سال جولائی تک بھارت کا دورہ کریں گے اور اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ساتھ مختلف سطحوں پر ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ خیال رہے کہ ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے امن مذاکرات معطل کر دیے تھے حالانکہ گذشتہ سال جولائی میں ایس ایم کرشنا نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے کئی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے میں شدت پسند ہندو تنظیموں کے ملوث ہونے کی بات تقریباﹰ ثابت ہوجانے سے نئی دہلی حکومت دہشت گردی کے حوالے سے دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے۔

دوسری طرف بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ اس وقت جموں و کشمیر میں نسبتاﹰ امن کی جو صورت حال ہے وہ برقرار رہے، کیوں کہ اگر وہاں گذشتہ سال کی طرح شورش میں شدت آگئی تو حالات کو قابو میں کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ بھارت دنیا کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ وہ بہر حال قیام امن کا داعی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بھارت کے رویے میں یہ تبدیلی بڑی حد تک امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر امیتابھ مٹو کہتے ہیں کہ ”میں ان مذاکرات کے حوالے سے بہت زیادہ پرامید نہیں ہوں۔‘‘

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM