1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک ایران بجلی معاہدہ طے پا جانے کے قریب تر

پاکستان اور ایران کے مابین بجلی کی درآمد سے متعلق معاہدہ اپنی تیاریوں کے حتمی مراحل میں ہے۔ اس معاہدے کے طے پا جانے سے پاکستان کو ایران سے ملنے والی بجلی دس گنا ہو جائے گی۔

حکومت پاکستان کے ایک ترجمان نے منگل گیارہ اگست کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران پر اُس کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے سبب لگی پابندیوں کے ختم ہو جانے کے بعد پاکستان میں ایرانی بجلی کی درآمد کا یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دو ہزار آٹھ اور دو ہزار نو کے سالانہ بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق تب پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت کا حجم 1.3 بلین ڈالر تھا، جو کہ 2013 ء اور 2014 ء کے مالی سال تک کم ہو کر صرف 217 ملین ڈالر کے برابر رہ گیا تھا۔ اس کمی کی وجہ امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے تہران حکومت پر لگائی جانے والی پابندیاں بنی تھیں تاہم گزشتہ ماہ جرمنی سمیت دنیا کی چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے مابین ایٹمی ڈیل طے پا جانے کے بعد سے ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

پیر دس اگست کو امریکی سینیٹر برائن شاٹس نے کہا تھا کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں اور اس طرح امریکی سینیٹ میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے بل کی منظوری کے لیے صدر باراک اوباما کو ایک اور ووٹ مل گیا ہے اور یہ بل اپنی منظوری کی منزل کے مزید قریب ہو گیا ہے۔

ایران اس وقت اپنی قومی سرحدوں کے قریب واقع پاکستانی علاقوں کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ ظفریاب خان کا، جو پانی اور توانائی کی وزارت کے ترجمان ہیں، کہنا ہے، ’’یہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔‘‘ ان کوششوں کے تحت پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی کی درآمد سے متعلق معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کوششیں اس وقت اپنے حتمی مراحل میں ہیں اور یہ ڈیل ہو جانے کے بعد پاکستان کو ایران سے ملنے والی بجلی میں نو گنا اضافے کے بعد یہ درآمدی حجم ایک ہزار میگا واٹ ہو جائے گا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تیل کی پائپ لائن کا معاملہ بھی جلد طے ہونے کا امکان ہے

پاکستان اور ایران کے درمیان تیل کی پائپ لائن کا معاملہ بھی جلد طے ہونے کا امکان ہے

تہران اور اسلام آباد کے مابین توانائی کے اس معاہدے میں بجلی کی ایک سپلائی لائن بھی شامل ہوگی۔ ظفریاب خان نے تاہم اس معاہدے کے حتمی طور پر طے پا جانے سے پہلے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

بجلی کے بحران سے دوچار ملک پاکستان میں ہر روز قریب 12 گھنٹے بجلی کی فراہمی منقطع رہتی ہے۔ پاکستان کی وزارت تجارت کی ایڈیشنل سیکرٹری روبینہ اطہر اس بارے میں کہتی ہیں، ’’سب سے بڑا مسئلہ سردست یہ ہے کہ بجلی کی ترسیل کی قیمت کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے دوبڑے مرکزی بینکوں کے مابین رابطے جاری ہیں۔ روبینہ اطہر نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ تہران حکومت پر سے مغربی دنیا کی پابندیاں اُٹھائے جانے سے پہلے ہی پاکستان اور ایران کے مابین بجلی کا یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر جائے گا۔‘‘