1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاک امریکہ تعلقات کے لیے آئندہ چند ہفتے اہم‘

پاکستان اور افغانستان کے حالیہ دوروں کے بعد امریکہ واپس پہنچنے والے دو امریکی سینیٹروں کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں یہ بات سامنے آجائے گی کہ اسلام آباد حکومت اسلامی انتہاپسندی کے خلاف قابل بھروسہ ہو سکتی ہے یا نہیں۔

default

پاکستانی وزیر اعظم گیلانی امریکی وزیر خارجہ کلنٹن کے ساتھ

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر مارک اوڈل کا کہنا ہے: ’’کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں آگ لگانے اور بجھانے کے دونوں ہی کام کر رہا ہے۔‘‘

اوڈل کے ساتھ خطے کے دورے سے واپس لوٹنے والے ان کے ڈیموکریٹ ساتھی سینیٹر جیک ریڈ کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں یہ بات سامنے آئے گی کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک جیسے دشمنوں کے خلاف پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر مؤثر طور پر کام کر سکتا ہے یا نہیں۔

ریڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے اعلیٰ حکام پر افغانستان میں حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروپوں کی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے زور دیا ہے۔

اوڈل کا مزید کہنا ہے، ’’دِنوں اور ہفتوں میں کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور ان کے پاکستانی ہم منصب مل کر کام کر رہے ہیں لیکن اس تعاون کو مزید مستحکم بنائے جانے کی ضرورت ہے۔

اس امریکی سینیٹر نے کہا، ’’ہم چاہیں گے کہ یہ مستحکم ہو۔ کچھ کمی رہی ہے، ملے جُلے اشارے سامنے آتے رہے ہیں، پھر بھی مجموعی طور پر ہم ان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ ہم سے کئی طرح سے تعاون کر رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجوں پر سرحد پار سے کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فورسز نے پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سمیت اعلیٰ امریکی عہدے داروں نے گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اسلامی انتہا پسندوں، بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی حکام پر دباؤ ڈالا تھا۔

ریڈ کا کہنا ہے کہ کلنٹن کے دورے کے بعد پاکستانی قیادت کے رویے میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس