1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک امریکہ تعلقات ، لفظوں کی جنگ جاری

پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کچھاؤ اور ایڈمرل مائیک مولن کے حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے بارے میں حالیہ بیانات کے باعث واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان اس وقت لفظوں کی ایک جنگ جاری ہے۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے کابل اور واشنگٹن دونوں سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔

حنا ربانی کھر نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں یہ بات اس پس منظر میں کہی کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر ایک سے زائد مرتبہ یہ الزام لگایا جا چکا ہے کہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے مابین تعلقات ہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کی جانب سے حقانی گروپ کی مبینہ طور پر عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں مدد بھی کی جاتی ہے۔

اسی لیے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ حقانی گروپ اور اپنی سر زمین پر موجود دوسرے شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اس بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا، ’پاکستان افغانستان کی حکومت اور امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے‘۔

NO FLASH Pakistan Außenministerin Hina Rabbani Khar

پاکستانی وزیر کے بقول اسلام آباد اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات میں خرابی کی اصل وجہ موجودہ صورت حال ہے، جو بہت نازک ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں اپنے مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے‘۔

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفاع میں حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ اسی ادارے کی کوششوں سے گزشتہ کچھ عرصے میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے بہت سے رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک عشرے میں پاکستان میں دہشت گردی کے ہاتھوں تیس ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس پاکستانی وزیر نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں ایک دوسرے پر زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پچھلے دس سال میں دہشت گردی کی وجہ سے اپنے ہاں جس قدر تباہی اور ہلاکتوں کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا ہے، اتنا دنیا کے بہت ہی کم ملکوں نے کیا ہے۔

حنا ربانی کھر کی جنرل اسمبلی میں اس تقریر کے بارے میں بھارتی خبر ایجنسی پی ٹی آئی نے آج بدھ کے روز لکھا کہ پاکستانی وزیر نے اقوام متحدہ میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا دفاع کیا۔ لیکن جنرل اسمبلی کے چھیاسٹھویں اجلاس سے اپنے خطاب میں کھر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کو اس بات کا بھی اچھی طرح احساس ہے کہ دہشت گردی ہی کی وجہ سے پاکستان کے ہمسایہ ملکوں کو بھی کتنے سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی نے کھر کی تقریر سے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے بہت سے اعداد و شمار بیان کرنے کے بعد یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ اس جنگ میں اسلام آباد کی کامیابی علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM