1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک امريکی انٹيليجنس آپريشنز کی بحالی پر اتفاق

پاکستانی وزارت خارجہ نے آج جمعہ کو اعلان کيا ہے کہ امريکہ اور پاکستان کے مابين اعتماد بحال کرنے کے ليے پہلے قدم کے طور پر دونوں ملکوں کے خفيہ اداروں کی مشترکہ کارروائياں دوبارہ شروع کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے۔

پاکستانی خارجہ سيکريٹری سلمان بشير

پاکستانی خارجہ سيکريٹری سلمان بشير

اسلام آباد ميں وزارت خارجہ نے يہ اعلان امريکی وزير خارجہ کلنٹن کے پاکستان کے دورے کے ايک ہفتے بعد کيا ہے۔ ہليری کلنٹن نے اپنے دورے ميں پاکستان پر زور ديا تھا کہ وہ ملک ميں سرگرم عسکريت پسند گروپوں کے خلاف فيصلہ کن کارروائی کرے۔

اسلام آباد ميں پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمينہ جنجوعہ نے کہا: ’’مشترکہ آپريشن ہوں گے۔ يہ خفيہ معلومات کا تبادلہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ جب وزارت خارجہ کی ترجمان سے پوچھا گيا کہ کيا پاکستان امريکی فوجيوں کو پاکستانی فوجيوں کے ساتھ مل کر آپريشن کرنے کی اجازت دے گا، تو اُنہوں نے کہا کہ وہ تفصيلات ميں جانا نہيں چاہتيں۔ ليکن انہوں نے يہ کہا: ’’ظاہر ہے کہ اپنی خود مختاری کا سوال ہمارے ليے سب سے زيادہ اہم ہے اور ہر کام باہمی صلاح مشوروں ہی سے کيا جائے گا۔‘‘

امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن

امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن

پچھلے ہفتے ہليری کلنٹن کے دورہء پاکستان ميں اُن کے ہمراہ ايک امريکی افسر نے کہا تھا کہ پاکستان ميں ايسے عسکريت پسندوں پر حملوں کے ليے خصوصی مشترکہ آپريشنز ہو سکتے ہيں جو، نہ صرف افغانستان ميں مغربی افواج بلکہ دنيا ميں دوسری جگہوں پر بھی مغربی ممالک کے ليے خطرہ ہوں۔

پاکستان اور امريکہ کے درميان سن 2001 سے جاری مشترکہ خفيہ کارروائيوں کے نتيجے ميں پاکستان ميں القاعدہ اور طالبان کے کئی اہم رہنما گرفتار کيے جا چکے ہيں۔ ليکن يہ مشترکہ کارروائياں جنوری ميں دو پاکستانيوں کو ہلاک کرنے کی وجہ سے سی آئی اے کے ايجنٹ ريمنڈ ڈيوس کی گرفتاری کے بعد سے بند تھيں۔ ڈيوس کو اسلامی قانون کے تحت ہلاک شدہ پاکستانيوں کے ورثا کو خون بہا ادا کرنے کے بعد رہا کر ديا گيا تھا۔

ايک پاکستانی تجزيہ نگار نے کہا کہ مشترکہ آپريشنز کا فيصلہ صحيح سمت ميں ايک قدم ہے ليکن دونوں مشکل اتحاديوں کی باہمی بد اعتمادی کم کرنے کے ليے ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔

چيرمين جوائنٹ چيفس آف اسٹاف مائيک مولن

چيرمين جوائنٹ چيفس آف اسٹاف مائيک مولن

ايک ريٹائرڈ پاکستانی جنرل اور دفاعی تجزيہ نگار طلعت مسعود نے کہا: ’’بد اعتمادی فوراً ختم نہيں ہوگی۔ ہميں انتظار کرنا اور ديکھنا ہوگا کہ مشترکہ آپريشنز کے فيصلے پر کس طرح عمل کيا جاتا ہے۔‘‘

امريکہ افغانستان ميں استحکام پيدا کرنے کے ليے پاکستان کو ايک بہت اہم اتحادی سمجھتا ہے ليکن دونوں کے روابط ميں بد اعتمادی اور شکوک بھی پائے جاتے ہيں۔ اس کی ايک علامت کے طور پر پاکستان نے امريکہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان ميں موجود تقريباً 130 تربيت دينے والے امريکی فوجی افسران کی تعداد ميں نصف کی کمی کردے۔ امريکی چئرمين جوائنٹ چيفس آف اسٹاف ايڈ مرل مائيک مولن نے واشنگٹن ميں کہا کہ ان امريکی افسروں ميں خاصی کمی تو کر دی جائے گی ليکن ان کی تعداد صفر نہيں ہو جائے گی۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM