1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر تاجر برادری کے تحفظات

صوبہ خیبر پختونخوا کے صنعتکاروں اور تاجر برادری نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

default

’معاہدے کا اثر روزگار کی ملکی منڈی پر پڑے گا‘

اس معاہدے کے تحت وفاقی کابینہ نے افغانستان کے تاجروں کو بھارت سے اشیائے ضرورت اپنے ملک لے جانے کے لئے پاکستانی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یوں افغان تاجراب واہگہ کی پاک بھارت سرحد اور کراچی کی بندرگاہ کے راستے اپنا سامان پاکستان لا سکیں گے۔تاجر برادری نے اس معاہدے کو پاکستانی تاجروں کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ اس معاہدے کے بدلے پاکستان افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکے گا اور اس خطے کے ساتھ پاکستانی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک پہنچ سکے گا۔

تاہم پاکستان کی فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ضیاء الحق سرحدی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف اسمگلنگ میں اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان ریلوے اور ٹرانسپورٹ کرایوں کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی سے بھی محروم ہو جائے گا۔

Pakistani Rangers - Konflikt Indien Pakistan

واہگہ کی پاک بھارت سرحد

ضیاء الحق سرحدی کہتے ہیں: ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ اب یہ ٹرک یہاں رکیں گے تو کس کو پتہ کہ ان میں کیا کچھ لایا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں کئی ایسے ٹرک بھی پکڑے گئے، جن میں اسلحہ بارود لدا ہوا تھا۔ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے دعوے تو کئے جاتے ہیں تاہم افغان حکام کے رویے کی وجہ سے پاکستان کی وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت 600 ملین ڈالر سالانہ سے کم ہو کر صرف 1.67ملین ڈالر رہ گئی ہے۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں افغانستان بھیجا جانے والا زیادہ تر سامان اسمگل ہو کر دوبارہ پاکستان پہنچے گا، وہیں پر یہ سامان اٹھانے کے لئے جانے والے خالی ٹرکوں کے ذریعے منشیات اور اسلحہ اسمگل کئے جانے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی 2400 کلو میٹر طویل باہمی سرحد کی نگرانی آسان نہیں، جس کی وجہ سے دیگر ممالک سے افغانستان پہنچنے والی درآمدی اشیاء نہ صرف پاکستانی مارکیٹوں میں پہنچ جائیں گی بلکہ انہیں باآسانی وسطی ایشیا کی منڈیوں تک بھی پہنچایا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق ان حالات میں وسطی ایشیا میں پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹ نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ اس معاہدے کی رو سے افغانستان کسی بھی ملک سے اشیائے ضرورت منگوا سکتا ہے تاہم پاکستان کو ان درآمدات پر کوئی ڈیوٹی یا راہداری وصول کرنے کا حق نہیں ہوگا اور نہ ہی ان درآمدات کی چیکنگ ہو سکے گی۔

اسی طرح افغان ٹرانسپورٹر جب واہگہ کی سرحد اور کراچی کی بندرگاہ سے سامان اٹھائیں گے تو کوئی کسٹم ڈیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ اور ان کا عملہ بے روزگار ہو جائے گا۔

کسٹمز کلیئرنگ کے اداروں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ضیاء الحق سرحدی کہتے ہیں کہ اس وقت ساڑھے تین سو سے زیادہ کلیئرنگ ایجنٹ پشاور جبکہ کراچی میں 1680ایجنٹ ہیں۔ ہر ایک کے پاس 25 سے 30 افراد کا عملہ ہے۔ اس معاہدے پر عملدرآمد سے یہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس