1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک افغان سہ فریقی اجلاس بدھ کے روز

امریکی صدر اوباما بُدھ کو پاکستانی اور افغان صدور سے ملاقات میں دونوں ملکوں میں متحرک طالبان کو شکست دینے کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کے اہم نکات پیش کر سکتے ہیں۔

default

امریکی صدر باراک اوباما کی میزبانی میں بدھ کے روز پاک افغان سہ فریقی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے

پاکستانی صدر آصف زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی بدھ کے دِن امریکی صدر کی رہائش گاہ پر اوباما سے براہ راست ملاقات کرنے والے ہیں۔

امریکی صدر کے ساتھ یہ دونوں لیڈروں کی پہلی ملاقات ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اوباما کی گفتگو کا مرکز دہشت گرد تنظیم القائدہ اور اُس کے مبینہ طور پرروپوش لیڈر اسامہ بن لادن کے علاوہ اُن کی حمایتی انتہاپسند طالبان کی بڑھتی سرگرمیاں اور اُن پر حتمی کنٹرول کے لئے ایک قابلِ عمل مشترکہ حکمت عملی کو تشکیل دینا ہے۔ اس مناسبت سے ایک ہفتہ قبل آنے والا امریکی صدر کا بیان خاصا اہم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ اُن کا فرض ہے کہ بن لادن اور اُن کے حواریوں کی کوئی مضبوط پناہ گاہ کا قیام ممکن نہ ہو۔

Abdullah Gul mit Asif Ali Zardari und Hamid Karzai

پاکستانی صدر زرداری اور افغان صدر کرزئی ترک صدر عبداللہ گل کے ساتھ


اس صورت حال میں اِس خطے کے حوالے سے ہمسایہ ملکوں کو بھی پریشانیاں لاحق ہیں جیسے کہ بھارت اور چین۔ اِن ملکوں کے ساتھ پاکستان کی سرحدیں ملی ہوئیں ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی انتہاپسندی دونوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اِسی طرح شیعہ عقیدے کے اکثریتی آبادی پر مشتمل ملک ایران کو بھی پاکستان میں شیعہ مخالف بڑھتی ہوئی انتہاپسندی سے خطرات لاحق ہیں۔

روس کو افغانستان میں افزائش پاتی منشیات کی فصلوں سے بے چینی ہے کیوں کہ منشیات کی سمگلنگ کا کوریڈور افغانستان سے شروع ہوتا ہے۔ روس کو منشیات کے علاوہ اپنی مسلم جمہوریاؤں میں سرایت کرتی انتہاپسندی کا بھی سامنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پہلے ہی افغانستان کو ’نارکو اسٹیٹ‘ یا منشیات والی ریاست قرار دے چکی ہیں۔ تازہ بین الاقوامی اعداد شمار کے مطابق عالمی سطح پر فراہم کی جانے والی نوے فی صد افیون اور اِس سے بنائی جانے والی منشیات کا منبع افغانستان ہے۔

NATO in Afghanistan

امریکی اور نیٹو افواج کو افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کا سامنا ہے


سن دو ہزار میں امریکی کی طالبان کو کچلنے کی جنگ شروع ہونے کے بعد وہ حکومت سے ضرور باہر کردیئے گئے لیکن اُن کی مزاحمتی سرگرمیوں میں کمی واقع نہیں ہوئی اور ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پھیل گئی اور وہاں سے باہر سوات اور بنیر تک پہنچ چکی ہیں۔

ایسے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر انتہاپسند طالبان کو نکیل نہ ڈالی گئی تو پاکستان کی سالمیت اور استحکام کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ امریکہ بھی اِس گھمبیر صورت حال کا احساس رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت سے ایک مربوط تعاون کے علاوہ فعال کردار کا متمنی ہے۔ بنیر تک طالبان کے پہچنے کا مطلب ان کی دارالحکومت سے تقریباً سو میل دوری ہے۔ سوات میں نظام عدل کے معاہدے کے نفاذ پر بھی امریکی تشویش اپنی جگہ موجود ہے۔

اِس خطرناک پس منظر کے ساتھ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے محفوظ ہاتھوں میں ہونے کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی صدر کو یقین ہے کہ وہ محفوظ کنٹرول میں ہیں لیکن کچھ اعلیٰ امریکی اہل کار خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

بنیر اور زیریں دیر میں پاکستانی فوج کے اپریشن کو بھی عالمی سطح پر بروقت افدام سے تعبیر کیا گیا ہے اور اب وادی سوت کے مرکزی شہر مینگورا میں بھی فوجی کارروائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔