1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوجی لاپتہ

پاک افغان بارڈر پوسٹ پر رواں ہفتے کے اوائل میں افغان طالبان کے ساتھ جھڑپ کے بعد بدھ کے روز 30 سے زائد پاکستانی فوجیوں کے لا پتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

default

میران شاہ میں پاکستانی فوجی گشت پر

ان لاپتہ پاکستانی فوجیوں میں سے 10 کو عسکریت پسندوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ اس کا اعلان پاکستانی فوج نے کیا ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان جنرل اطہر عباس نے گزشتہ پیر کو ہونے والے افغان طالبان کے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مہمند اور باجوڑ ایجنسی کے درمیان قائم پوسٹ کو پار کرتے ہوئے افغان طالبان پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور انہوں نے افغانستان کی سرحد سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ کر پاکستانی فوج پر حملہ کیا۔

اطہرعباس نےمزید یتایا کہ ان عسکریت پسندوں نے 5 پاکستانی فوجیوں کو

Pakistan Militärsprecher Athar Abbas in Rawalpindi

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس: فائل فوٹو

افغانستان کے شہرجلال آباد میں قائم پاکستانی قونصل خانے کے حوالے کر دیا تاہم دیگر 35 پاکستانی فوجیوں کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان نے کہا حکام ان لا پتہ فوجیوں کا کھوج لگانے کی کوشش میں ہیں۔

دریں اثناء جائے وقوعہ سے متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ جن سے اُس علاقے کے دیگر علاقوں سے کٹے ہوئے ہونے کی نشاندہی ہو رہی ہے اور وہاں سے مصدقہ اطلاعات کا ملنا مشکل نظرآ رہا ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے ملانے والے کوہستانی علاقوں میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق 65 پاکستانی فوجی لاپتہ ہیں۔ دریں اثناء خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو نام نہ بتانے کی شرط پر مہمند ایجنسی کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ’ لا پتہ پاکستانی فوجیوں میں سے 11 کے بارے میں پاکستان کے سرحدی فوجی اڈے کو اطلاعات دے دی گئی ہیں جبکہ دس پاکستانی فوجی اتفاقاً افغانستان کی سرحدی حدود میں داخل ہو گئے تھےجو اب افغان سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔ طالبان عناصر نے ان 10 فوجیوں کو اپنے قبضے میں رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر بدھ کے روز پاک افغان بارڈرپوسٹ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہونے والی ایک علیحدہ جھڑپ میں 63 طالبان عسکریت پسندوں اور دس فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ’فرنٹئر کور‘ کے ایک ترجمان میجر فضل الرحمٰن کے بقول’ یہ جھڑپیں شدید نوعیت کی تھیں اورعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی حملوں کا سہارا لینا پڑا‘۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حسین

DW.COM