1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک افغان تعلقات میں بہتری عوامی رابطوں اور مکالمت کے ذریعے

پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں بہتری سے ہی خطے کا امن اور استحکام جڑے ہوئے ہیں اور یہ دونوں ہمسایہ ممالک مل کر ہی ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش سمیت خطے کو درپیش ہر طرح کے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

پاک افغان امن کمیٹی کی ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز‘ اور ’بیونڈ باؤنڈریز‘ نامی غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے کراچی میں منعقدہ ’بیونڈ باؤنڈریز ٹو‘ نامی ورکشاپ میں شریک دونوں ممالک کے تجزیہ کاروں، سیاستدانوں اور مبصرین کی رائے یہ تھی کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوامی رابطوں کو بھی مزید بہتر بنانا ہو گا اور ساتھ ہی ہر سطح پر مکالمت ہی ہر مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں سویڈن کی سابق سفیر این ولکین کی سربراہی میں ہونے والی اس ورکشاپ کا عنوان پاک افغان تجارت کا فروغ اور میڈیا میں تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔

پاکستان کی انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ شعیب سڈل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کی حکومت سے بہت سی شکایات ہیں مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ ان شکایات میں سے بہت سے حقیقت کی بجائے غلط تاثر کی وجہ سے ہیں۔ شکایات دور کرنے کے لیے اس طرح کے مواقع بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مگر یہ عمل اس وقت زیادہ کارگر ثابت ہو گا جب ایسے مواقع تواتر سے دستیاب ہوں گے۔

روس کی افغانستان میں دلچسپی اچانک کیوں بڑھ گئی ہے؟

طورخم  پر پاسپورٹ کی شرط، تجارت متاثر نہیں ہو گی، محمود شاہ

افغان امن کے لیے ماسکو میں اجلاس، کابل حکومت اور طالبان لاتعلق

شعیب سڈل کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان نے پاکستان کے خلاف جو موقف اختیار کیا ہے، وہ دراصل کابل کا اپنا نہیں موقف نہیں بلکہ اس میں خطے میں سرگرم دیگر ’پلیئرز‘ بھی شامل ہیں۔ مگر جب گفتگو ہوتی ہے، تو اصل صورت حال سامنے آنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ مکالمت کا تواتر سے نہ ہونا بھی مشکلات پیدا کرتا ہے اور نئی مکالمت میں ہر بار بات پھر صفر سے شروع کرنا پڑتی ہے۔

سرحدوں کے انتظام کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے شعیب سڈل کا کہنا تھا کہ اس سے مراد ڈیورنڈ لائن بند کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد لوگوں کی آمد و رفت اور اشیاء کی نقل و حمل کو زیادہ سے زیادہ آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مگر الزام تراشیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ افغانستان دہشت گردوں کے پاکستان سے آنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ پاکستان کو بھی افغانستان سے یہی شکایت ہے۔ تو اگر دونوں ممالک کی سرحدیں گڑبڑ پھیلانے والے افراد کے لیے بند کر دی جائیں تو کم از کم یہ معاملہ کسی کروٹ تو بیٹھے گا۔‘‘

سڈل کا مزید کہنا تھا کہ عراق اور شام میں داعش کو بہت مدد مل رہی ہے کیونکہ داعش میں شامل افراد کی اکثریت نظریاتی کی بجائے پیسے لے کر کام کرنے والوں کی ہے۔ ’’تو مستقبل میں ان کا ہدف افغانستان اور پاکستان ہوں گے۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں ریاست کی حاکمیت کافی حد تک بحال کر لی ہے مگر افغانستان میں صورت حال ابھی تک اس کے برعکس ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’افغانستان یہ کام تنہا نہیں کر سکتا۔ روس اور چین کو بھی یہی خطرہ لاحق ہے کہ داعش مشرق وسطیٰ سے نکل کر ان کی جانب بڑھے گی۔ لہٰذا پیش بندی کے لیے روس میں اجلاس بلایا گیا، جس میں پاکستان اور چین بھی شامل تھے مگر اس کا مقصد افغانستان میں طالبان کو مضبوط کرنا ہر گز نہیں بلکہ آئندہ اجلاس میں افغانستان بھی شریک ہوگا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جنہیں کابل حکومت بین الاقوامی مدد کے بغیر ختم نہیں کر سکتی۔‘‘

افغانستان اپنی معاشی ترقی کا بھی سوچے اور پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بنے تاکہ منصوبے کے ثمرات اس خطے کے تمام ممالک کو میسر آ سکیں۔ افغانستان میں ویمن اینڈ پیس سٹڈیز سے تعلق رکھنے والی تجزیہ کار وزما فروغ کا کہنا تھاکہ ان کے لیے دو برادر ممالک کے درمیان کشیدگی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ لیکن ان کے بقول یہ بات کہنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں کہ ایسا بداعتمادی کی وجہ سے ہے اور اس بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بات چیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’مگر بدقسمتی سے گزشتہ دو تین سال سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی تعمیری مکالمت نہیں ہوئی۔ میری رائے میں تواتر سے دوطرفہ مکالمت بہت ضروری ہے، کیونکہ ماضی کا ’سیاسی بیگج‘ حالات کو خراب کرنے کے لیے کافی ہے۔ افغانستان میں یہ تاثر عام ہے کہ دہشت گردی اور خودکش حملے کرنے والے پاکستان سے آتے ہیں اور میڈیا بھی ہمشیہ یہی تاثر دیتا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتی ہے، جس سے مسلسل دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ حالات میں بہتری کے لیے صرف لیڈروں کو ہی نہیں بلکہ اطراف کے عوام کو آپس میں بات کرنا ہو گی ۔ تاکہ ہم ان باتوں سے آگے جائیں اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی بات چیر کر سکیں۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے بھی ورک شاپ میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں، جن میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ تاریخی طور پر بھی بہت سے قدریں مشترک ہیں۔ لہٰذا مکالمت کبھی رکنا نہیں چاہیے اور پاکستان کو کوئی بھی ایسا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے، جو افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ڈائیلاگ کی صورت میں میسر آئے۔

’’بھارت نے پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس ملتوی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کنٹرول لائن پر کشیدہ صورت حال اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود جب بھارت میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس منعقد ہوئی، تو پاکستان نے اس میں صرف اس لیے شرکت کی کہ معاملہ افغانستان کا تھا۔ اس لیے کہ افغانستان میں نظر آنے والی ترقی کو استحکام نصیب ہو سکے۔‘‘

شازیہ مری نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے لیے خارجہ امور پر بھرپور توجہ بھی ضروری ہے، جس کے لیے ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم اگر یہ کام خود کر رہے ہیں، تو انہیں زیادہ چوکنا رہنا ہو گا، پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا اور اپنی غلطیوں پر نظرثانی بھی کرنا ہو گا۔ یہی کام افغانستان کی بھی ذمہ داری ہے تاکہ دونوں جانب سے عوامی رابطوں کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

DW.COM