1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: 72 کالعدم تنظیموں کی میڈیا کوریج پر پابندی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نےکالعدم لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ اور اس سے منسلک فلاحی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت بہتر کالعدم تنظیموں کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس ضمن میں پیر کی شام جاری کیے گئے ایک نوٹس کے ذریعے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تنظیموں کو کوریج نہ دیں۔ پیمرا کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس سات نکات پر مشتمل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے قومی ایکشن پلان کے تحت اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کی ہر طرح کی کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیش کالعدم لشکر طیبہ کا حصہ ہی ہیں۔

پیمرا کی جانب سے ’’نیشنل ایکشن پلان‘ کالعدم تنظیموں کی حیثیت اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے بھجوائے جانیوالے دو صفحات پر مشتمل نوٹس کے ہمراہ کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی بھجوائی گئی ہے۔

ان تنظمیوں میں سے ساٹھ کو حکومت پاکستان نے کالعدم قرار دے رکھا ہے جبکہ بارہ پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کے مطابق پیمرا کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی کوریج پر باقاعدہ اور مکمل پابندی عائد کرنا شدت پسندی کی روک تھام کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ایسی جماعت کو، جس پر اس نےخود یا اقوام متحدہ نے پابندی عائد کی ہو، کسی قسم کی کسی بھی قسم کی تشہیر کی اجازت نہ دے۔ اس پابندی کے اقدام سے عالمی سطح پر بھی یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہاکہ اب یہ پیمرا کی ذ‌مہ داری ہے کہ وہ اس پابندی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جاسکے کہ یہ پابندیاں صرف ایک رسمی کارروئی ہیں۔ پیمرا کے مطابق ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے چینلوں کو جرمانے اور لائسنس کی معطلی جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس نوٹس کے ذریعے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیمرا کے ترمیمی آرڈینینس دو ہزار سات کی شق سات کے تحت کسی بھی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مکرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔

سپریم کورٹ کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوہ یا دیگر ایسی کوئی بھی جماعت، جس کوپیمرا کے اس نوٹیفیکشن پر اعتراض ہو، وہ اسے عدالت میں چلینج کر سکتی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت بھی ہمارے سامنے ایک مثال موجود ہے، لاہور ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی کسی بھی قسم کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے خلاف ان کی جماعت نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے، تو میرے خیال سے عدالت جانے کا آپشن تو ان جماعتوں کے پاس ہے اور عدالت ان کی درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔‘‘

خیال رہے کہ دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے دو ہزار دو میں لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جس کے بعد سے اس تنظیم نے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ناموں سے اپنے کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ تاہم حکومت نے بظاہر اقوام متحدہ کے دباؤ پر پہلے دو ہزار آٹھ اور پھر دو ہزار بارہ میں زیر نگرانی رہنے والی تنظیموں کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔