1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان ہاکی ٹیم کا دورہ یورپ: کامیابی کے دعوے ’مضحکہ خیز‘

پاکستان ہاکی ٹیم نے طویل دورانیے کے دورہ یورپ کی ابتدا ڈبلن میں میزبان آئرلینڈ اور چین کے خلاف چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ جیت کر کی تھی۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کا ایک فائل فوٹو

پاکستانی ہاکی ٹیم کا ایک فائل فوٹو

تاہم ہالینڈ میں رابو بینک ٹرافی میں پاکستانی ٹیم انتظامیہ کی طرف سے کامیابی کے تمام دعووں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب اسے پہلے جرمنی اور پھر ڈچ ٹیم نے چار صفر سے زیر کرکے چوتھی اورآخری پو زیشن پر دھکیل دیا۔

اس دورے میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان نے ایک ٹیسٹ میچ ضرورجیتا البتہ ہالینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز کے علاوہ اسے بیلجیئم اور فرانس جیسی معمولی ٹیموں کے ہاتھوں بھی غیرمعمولی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیران کن طور پر پاکستان ہاکی ٹیم کے منیجر سابق اولمپیئن خواجہ جنید یورپ کےاس دورے کو نتائج سے قطع نظر کامیاب قرار دیتے ہیں۔

ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ جنید کا کہنا تھا کہ طویل عرصے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کو یورپ کے سخت موسمی حالات میں ہاکی کھیلنے کا موقع ملا۔ وہاں کھیل کر اگلے سال لندن اولمپکس کی تیاری کی جانب اچھی پیش رفت ہوئی کیونکہ وہاں بھی حالات ایسے ہی ہونگے۔

پنالٹی کارنراسپیشلسٹ سہیل عباس نے اس دورے میں آٹھ گول کیے

پنالٹی کارنراسپیشلسٹ سہیل عباس نے اس دورے میں آٹھ گول کیے

چیف سلیکٹر حنیف خان کو بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بتدریج بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ حنیف خان کا کہنا تھا کہ ہالینڈ اور انگلینڈ جیسی ٹیموں سے برابر کھیلنا ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آرہی ہے کیونکہ یہ وہی ٹیمیں ہیں جن سے پاکستان ماضی قریب میں چار چار گول سے ہارجایا کرتا تھا۔

دوسری طرف سابق اولمپیئن اور 1970ء کے عشرے کے عظیم فاروڈ شہناز شیخ کہتے ہیں کہ کہ منیجر اور چیف سلیکٹر کا فرانس اور بیلجیئم جیسی ٹیموں سے ہارنے کے بعد دورے کو کامیاب قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ شہناز نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس دورے سے ثابت ہو گیا کہ پاکستانی ٹیم ایشیا کی علاقائی ٹیموں سے ہی جیتنے کی اہل ہے مگر جرمنی اور ہالینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف ہائی اسپیڈ ہاکی کا مقابلہ کرنا اسکے بس میں نہیں۔

شہناز کے مطابق پرانے پاکستانی کھلاڑیوں میں بیک ٹو بیک میچ کھیلنے کی اہلیت نہیں رہی جس سے ٹیم کا توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔ عمر رسیدہ کھلاڑی چوبیس گھنٹے میں دو میچز کھیلنے کے قابل نہیں رہے جو چمپیئنز ٹرافی اور اولمپکس میں تباہ کن نتائج کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگا۔

شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ ہاکی فیڈریشن کے حکام دہلی چمپیئنز ٹرافی کے بعد ایک اور قلابازی کھائیں گے اور اولمپکس 2012ء کے دعوے سے دستبردار ہو کر 2014ء ورلڈ کپ کو اپنا ٹارگٹ قراردینا شروع کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف کی انتظامیہ عوام کے ساتھ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دے رہی ہے۔

اس دورے میں پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ سہیل عباس نے آٹھ گول تو ضرور کیے مگرسہیل اگلے سال اولپمکس تک اپنی زندگی کی پینتیس بہاریں دیکھ چکے ہونگے ۔ لیفٹ ہاف وسیم احمد کے علاوہ ونگرز ریحان بٹ اور شکیل عباسی بھی تیس کے پیٹے میں ہیں۔ اس بارے میں شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ برس پاکستان نے ایشین گیمز کا ٹائٹل جیتا تو پرانے کھلاڑیوں کو الوداع کرنے کا وہ بہترین موقع فیڈریشن نے ضائع کر دیا مگر اب پی ایچ ایف اس ہڈی کو نہ تو اُگل سکتی ہے اور نہ ہی نگل سکتی ہے، کیونکہ اس نے دہلی ورلڈ کپ کے بعد جب پوری ٹیم نے ریٹائرمنٹ لی تھی تو خود ہی ان کھلاڑیوں کو لندن اولمپکس کھلانے کی سودے بازی کی تھی۔ شیخ کے مطابق فیڈریشن نے اکیڈمیز کا بھی ڈھونگ رچایا کیونکہ اگر اکیڈمیاں اگر فعال ہوتیں تو اب تک سہیل عباس اور وسیم احمد کے متبادل مل چکے ہوتے۔

زیشان اشرف

زیشان اشرف

دورہ یورپ میں مجموعی طور بارہ میچوں میں اکیس گول کرنے والی پاکستانی ٹیم کے خلاف ہونے والے چوبیس گول اسکے ڈیفنس کی صلاحیتوں کا منہ چڑانے کے لیے کافی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1971ء کے بارسلونا اور 1978ء کے بیونس آئرس عالمی کپ میں پاکستان کو کامیابی دلوانے والے شہناز شیخ پاکستان ہاکی ٹیم کے غیر ملکی کوچ مشعل وین ڈین کی کارکردگی اور رویے سے بھی نالاں ہیں۔ شہناز شیخ کہتے ہیں کہ غیر ملکی کوچ نے چھ ماہ کی تنخواہ لے کر صرف پچاس دن کام کیا ہے ٹیم کا دورہ یورپ بھی اسی کی ایما پر کروایا گیا کیونکہ کوچ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی بجائے اپنے ملک ہالینڈ میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشعل وین ڈین مستقل نہیں بلکہ وزٹنگ کوچ ہیں اور حکومت کواس نوٹس لینا چاہیے۔

چیف سلیکٹر حنیف خان نے شہناز شیخ کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی راتوں رات اس ٹیم کو وکٹری اسٹینڈ پر نہیں لا سکتا۔ حینف خان کا کہنا تھا شہناز ہمارے بڑے ہیں مگر چوبیس گھنٹے تنقید درست نہیں کیونکہ جو شے بگڑی ہوئی ہو اس کی بہتری میں وقت لگتا ہے۔

تین دسمبر سے نئی دہلی میں شروع ہونے والے تینتیسویں چمپیئنز ٹرافی سے پہلے پاکستان ہاکی ٹیم کی اگلی اسائمنٹ دورہ آسٹریلیا ہوگا جہاں وہ اکتوبر میں روایتی حریف بھارت کے ساتھ دو سہ فریقی ٹورنامنٹس میں شرکت کرے گی۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس