1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان ہاکی میں آپریشن کلین اپ، کوچ، مینجر اور چیف سلیکٹر برطرف

پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ خواجہ جنید اور مینجر حنیف خان کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ سلیکٹرز بھی اپنے عہدوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سابق اولمپیئن فرحت خان ٹیم کے نئے کوچ ہوں گے جب کہ نئے چیف سلیکٹر کا عہدہ سابق کپتان حسن سردار نے سنبھال لیا ہے۔

پاکستان ورلڈ کپ میں براہ راست کوالیفائی نہ کرسکا

ریو اولمپکس: پاکستان کی شناخت کہاں گئی؟

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے برطرفیوں اور تقرریوں کا یہ اقدام پاکستانی ہاکی ٹیم کی حالیہ ورلڈ ہاکی لیگ میں انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد اٹھایا ہے۔ گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والی ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستان نے آٹھویں پوزیشن حاصل کی تھی اور ٹورنامنٹ میں اسے دو بار بھارت کے ہاتھوں بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 1-7اور کلاسیفیکیشن میچ میں 1-6 کے بھاری مارجن سے ہرایا تھا۔

خواجہ جنید کو، جو پاکستان کی جانب سے سن 1994 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن تھے، گزشتہ برس فروری میں قومی ٹیم کا کوچ اور سن 1984 میں لاس اینجلس اولمپک کے گولڈ میڈلسٹ حنیف خان کو مینیجر مقرر کیا گیا تھا۔ خواجہ جنید وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل انہیں 2012ء کے لندن اولمپکس میں ٹیم کے بری طرح ہارنے کے بعد بھی کوچنگ سے سبکدوش کیا گیا تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایک اہلکار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سابقہ سینٹر ہاف فرحت خان ٹیم کوچ کے علاوہ مینجر کی بھی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ باون سالہ فرحت خان گزشتہ کچھ عرصے سے نیشنل سلیکٹر تھے۔ اسّی اور نوّے کے عشروں میں اپنے جارحانہ کھیل سے شہرت حاصل کرنے والے فرحت سن 1992ءمیں آخری بار پاکستان کےلیے اولمپک میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کے رکن بھی تھے۔ شفقت ملک اور محمد سرور فرحت خان کے کوچنگ اسسٹنٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے بتایا کہ رشید جونیئر کی سرکردگی میں قائم قومی سلیکشن کمیٹی کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے جس میں قاسم خان اور وسیم فیروز بھی شامل تھے۔

سابق کپتان اور ماضی کے سحر انگیز سینٹر فاروڈ حسن سردار نئے چیف سلیکٹر بنا دیے گئے ہیں۔ نئی سلیکشن کمیٹی میں حسن سردار کے ہمراہ سن 1984ءکے لاس اینجلس اولمپکس کی فاتح ٹیم کے کھلاڑی ایاز محمود اور مصدق حسین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم نے سن 2010ء میں ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ اس وقت ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیکل وین ڈین ہیول ٹیم کے کوچ تھے۔ البتہ اس کے بعد سے ملکی کوچز کی نگرانی میں ٹیم کی کارکردگی کا گراف دن بدن نیچے آتا چلا گیا اور پاکستانی ہاکی کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ قومی ہاکی ٹیم سن 2012ء کے ورلڈ کپ اور 2014ء کے اولمپکس میں بھی جگہ نہ بنا سکی۔

پاکستانی ٹیم کا اگلے برس بھارت میں ورلڈکپ کھیلنا تقریباﹰ طے ہے، لیکن اس کے لیے ٹورنامنٹ میں اپنی شرکت یقینی بنانے کےلیے رواں برس اکتوبر میں ہونے والے ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنا ہو گی۔ ایشیا کپ ہی پاکستان ہاکی ٹیم کی اگلی بین اقوامی اسائنمنٹ بھی ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم کے نئے کپتان اور انتظامیہ کا پہلا امتحان

ہاکی: آخری فیصلہ نواز شریف پر چھوڑ دیا گیا

DW.COM