1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر

حالیہ برسوں کے دوران انرولمینٹ میں بہتری کے باوجود پانچ سے سولہ برس کے تقریباﹰ پینتالیس فیصد پاکستانی بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ اسکول نہ جانے والی لڑکیوں کی تعداد بارہ جبکہ لڑکوں کی دس ملین سے زائد بنتی ہے۔

جمعرات کو پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کم از کم 22.6 بچے ایسے ہیں، جن کی عمریں اسکول جانے کی ہیں لیکن ان کا اندراج کسی بھی اسکول میں نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر تقریبا 51.2 ملین بچے ایسے ہیں، جن کی عمریں پانچ سے سولہ برس کے درمیان ہیں اور ان کا اسکولوں میں داخلہ ضروری ہے۔

اس رپورٹ میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ان بچوں کے اسکول نہ جانے کی وجوہات کیا ہیں لیکن اس رپورٹ کے ایک شریک مصنف کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے اسکول نہ جانے کی دو بنیادی وجوہات غربت اور مختلف علاقوں میں بدامنی ہیں۔

ناصر امین کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’حالیہ چند برسوں کے دوران اسکولوں میں داخلہ لینے کی شرح ، سکیورٹی اور معاشی حالات میں بہتری کے باوجود موجودہ صورتحال خطرناک ہے۔‘‘

 سن دو ہزار بارہ کے مقابلے میں یہ صورتحال پھر بھی بہتر ہے۔ پانچ برس پہلے اسکول نہ جانے والے پاکستانی بچوں کی تعداد تقریبا چھبیس ملین تھی۔ موجودہ اعداد و شمار میں بہتری کی ایک وجہ پاکستانی فوج کی طرف سے کیے جانے والے مسلح آپریشن بھی ہیں، جن کے باعث بہت سے علاقوں کو عسکریت پسندوں سے چھین کر واپس حکومتی عملداری میں لایا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسکول نہ جانے والوں میں بارہ ملین سے زائد لڑکیاں اور دس ملین سے زائد لڑکے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے سب سے بری حالت ایران اور افغانستان سے ملحقہ صوبہ بلوچستان کی ہے، جہاں کے ستر فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔

اسی طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح اٹھاون فیصد بنتی ہے۔ ناصر امین کا کہنا تھا کہ ملک کا ہر بچہ اسکول جائے، اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ابھی پاکستان کو طویل سفر طے کرنا ہوگا۔