1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کو میسر محدود امکانات

پاکستان میں 20 سے لے کر 24 برس تک کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد 40 ملین سے زائد ہے لیکن کام کاج کی ابتدائی عمر کے ان چار کروڑ سے زیادہ باصلاحیت پاکستانی شہریوں کو ان کے بہتر مستقبل کے لیے میسر امکانات بہت محدود ہیں۔

پاکستان میں تازہ ترین مردم شماری کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔ بہبود آبادی کے محکمے اور وفاقی دفتر شماریات کے اندازوں کے مطابق ملکی آبادی اس وقت دو سو ملین یا بیس کروڑ سے بہرحال زیادہ ہے۔ چند برس پہلے کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کام کی عمر کے اور بیس سے لے کر چوبیس برس تک کے نوجوانوں کی تعداد چالیس ملین سے زائد تھی۔

ان اعداد و شمار کے مطابق ایک عشرے سے بھی کم عرصہ پہلے تک پاکستان کی قریب دو تہائی آبادی کی عمر پچیس سال سے کم تھی اور یہ تعداد ایک سو بیس ملین یا بارہ کروڑ کے قریب بنتی تھی۔ ان میں سے بھی پندرہ سے پچیس برس تک کی عمر کے پاکستانیوں کی تعداد ساٹھ ملین کے لگ بھگ تھی اور یہ آبادی کا وہ حصہ تھا، جو تب تک یا تو ملکی لیبر مارکیٹ کا حصہ نہیں بنا تھا یا اسے کوئی نہ کوئی کام کاج کرتے ہوئے تب چند ہی برس گزرے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی آبادی میں اضافے کے باوجود معاشرے میں ان نوجوانوں کا تناسب زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔

Pakistan International Youth Skill Day Rabeea Haadi (DW/I. Jabeen)

پاکستان میں یوتھ ورکرز، خاص طور پر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے روزگار کے امکانات بہت ہی کم ہیں، رابعہ ہادی

بین الاقوامی سطح پر آج ہفتہ پندرہ جولائی کو منائے جانے والے اقوام متحدہ کے ’ورلڈ یوتھ سکِلز ڈے‘ یا نوجوانوں میں ہنرمندی کے عالمی دن کی نسبت سے ڈی ڈبلیو نے رابطہ کیا راولپنڈی میں بہتر ہنرمندی کے شعبے میں ایک نجی ادارے سے منسلک ماہر شماریات خرم شہزاد سے۔ انہوں نے بتایا، ’’پاکستان میں شرح خواندگی بمشکل پچاس فیصد ہے۔ ناخواندہ یا مناسب حد تک تعلیم سے محروم شہریوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقے کو اگر ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود مختلف پیشوں کی بنیادی تربیت بھی میسر نہ ہو تو وہ اپنی اور اپنے زیر کفالت اہل خانہ کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ یہی نوجوان طبقہ پھر ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اپنا مؤثر حصہ ڈالنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کو اس طرف فوری توجہ دینا چاہیے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں خرم شہزاد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملک میں سرکاری سطح پر کام کرنے والے کچھ تربیتی مراکز ایسے ہیں، جو چاروں صوبوں میں قائم ہیں۔ لیکن یہ مراکز اتنی استعداد نہیں رکھتے کہ کئی ملین نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت کی ضروریات کو پورا کر سکییں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں شہری آبادی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شہری نوجوانوں کو بھی پیشہ ورانہ تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پورے ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کا ایک پورا جال بچھا دیں۔ یوں شہری اور دیہی علاقوں میں خواندہ، نیم خواندہ حتیٰ کہ ناخواندہ نوجوانوں کو بھی پیشہ ورانہ تربیت دے کر ان کے سماجی اور اقتصادی رویوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔‘‘

اسی موضوع پر پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے معدنیات اور کان کنی کے وزیر چوہدری شیر علی خان نے میڈیا کو بتایا، ’’وزیر اعلیٰ پنجاب کے یوتھ سکِلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں بے روزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد تجارت، مارکیٹنگ، صنعتوں اور دیگر شعبوں میں اپنی جگہ بنا سکیں گے اور اپنے اپنے خاندانوں کی بہتر کفالت کر سکیں گے۔‘‘ پنجاب کے اس صوبائی وزیر کے مطابق پاکستان میں اس وقت جس پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے یا سی پیک پر کام ہو رہا ہے، اس سے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چوہدری شیر علی خان نے کہا کہ ان نئے مواقع سے  یوتھ سکِلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ٹریننگ حاصل کرنے والے نوجوان بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اس وزارتی موقف کے برعکس پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ملکی تنظیم عورت فاونڈیشن کی رابعہ ہادی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان میں یوتھ ورکرز، خاص طور پر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے روزگار کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ نہ صرف گورنمنٹ سیکٹر بلکہ اب پرائیویٹ سیکٹر میں بھی مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے ہی کی مثال لے لیں، اس کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے بہت زیادہ جاب چانسز نکل سکتے تھے لیکن حکومت نے انڑنیشنل کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر لیے کہ وہ اپنی لیبر ساتھ لا سکتی ہیں۔ اب اگر افرادی قوت بھی باہر سے آئے گی، تو پھر ہمارے اپنے بے روزگار نوجوان کہاں جائیں گے؟‘‘

رابعہ ہادی نے کہا، ’’حکومت کو اس پہلو سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ فوری طور پر ملک بھر میں نہ صرف یوتھ سکِل ڈویلپمنٹ ٹریننگز کا اہتمام کیا جائے بلکہ ان تربیتی شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں۔ روزگار کے مواقع اور پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی نوجوان زیادہ تر سیلز گرلز اور سیلز بوائز کی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔ کچھ لڑکیاں بیوٹی پارلرز اور کچھ بڑے فرنچائز اداروں میں کام کرتی نظر تو آتی ہیں، لیکن ہمیں شدید تحفظات اس وجہ سے ہیں کہ ایسی ملازمتیں اکثر کسی باقاعدہ معاہدے کے ساتھ نہیں دی جاتیں۔ بات صرف کام کی نہیں، جاب سکیورٹی کی بھی ہے اور استحصال سے تحفظ کی بھی۔ تو مطلب یہ کہ جو نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسی ملازمتیں کرتے بھی ہیں، ان کا روزگار بھی خطرے ہی میں ہے۔‘‘

پاکستان میں خاص طور پر جیلوں میں قید خواتین کی مدد کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ویمن ایڈ ٹرسٹ یا WAT سے منسلک سوشل ورکر اور ماہر نفسیات فوزیہ خالد نے نوجوانوں میں ہنرمندی کے فروغ کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہماری تنظیم نے پاکستان کی مختلف جیلوں میں 1994 سے 12 سال سے لے کر 18 سال تک کی عمر کے نابالغ افراد کے لیے ایک خصوصی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو قانونی، سماجی اور نفسیاتی مشاورت فراہم کی جاتی ہے اور ساتھ ہی انہیں پڑھانے کے علاوہ مختلف پیشوں کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سلائی، دستکاری، بیوٹی پارلر یا پھر الیکٹریشن کا کام۔ اس خود کفالتی پروگرام سے اب تک ہزاروں ٹین ایجر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔‘‘

لیکن سرکاری طور پر اس سلسلے میں کتنا زیادہ کام کیا جا رہا ہے؟ فوزیہ خالد نے بہت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت اس حوالے سے اول تو بہت کم کام کر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ جو تھوڑا بہت کام کیا بھی جا رہا ہے، اس میں اچھی منصوبہ بندی، بہتر انتظام اور ایمانداری کا فقدان ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی منصوبہ کسی پائپ لائن سے گزر کر اس سے فائدہ اٹھانے والوں تک پہنچتا ہے، تو اس کے ممکنہ اثرات میں واضح کمی آ چکی ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس شعبے میں جو کچھ بھی کر رہی ہے، اس کی اچھی پلاننگ کرے اور اس پر اچھے انداز میں عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:13

پاکستان کی نوجوان نسل میں موسیقی کا شوق

DW.COM

Audios and videos on the topic