1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے منصوبے: عالمی برادری کا خیرمقدم

عالمی برادری نے پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور محصولات بڑھانے کے منصوبوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان اقدامات کو دہشت گردی پر قابو پانے اور حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کے لئے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

default

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ محفوظ، سلامت، مستحکم اور خوشحال پاکستان نہ صرف اپنے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے اور جمعہ کو برسلز میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

فرینڈ آف ڈیموکریٹک پاکستان کا یہ اجلاس اگرچہ کافی پہلے سے طے تھا، تاہم اس مرتبہ پاکستان میں سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اجلاس کا خاص موضوع رہی۔

اس حوالے سے برسلز ہی میں ورلڈ بینک کے حکام نے کہا کہ تباہ کن زلزلے کے بعد بحالی کے کاموں کے لئے کم از کم ایک سال کے لئے پاکستان کو مالی وسائل کی ضرورت ہے، جس کے بدلے میں اسے ڈونرز کو یقین دلانا ہو گا کہ وہ ٹیکس کے نظام اور مراعات کے سلسلوں میں تبدیلی لائے گا۔

پاکستان کے لئے ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر راشد بن مسعود نے برسلز میں خبررساں ادارے روئٹرز کے ساتھ بات چیت میں کہا، پہلے آٹھ سے بارہ ماہ میں بحالی کے لئے درکار پوری رقم مہیا کرنے کا وعدہ کر دینا چاہئے اور یہ اہم بھی ہے۔ اس کے لئے انتظار نہیں کیا جا سکتا۔‘

Pakistan Hochwasser Flut

سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کے کام دو سے تین سال میں مکمل ہوں گے

انہوں نے کہا کہ ایسی ابتدائی فنڈنگ سے روزگار کی بحالی ممکن بنائی جا سکے گی اور دیہی علاقوں میں معیشت کو متحرک کیا جا سکے گا۔ راشد بن مسعود نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے آئندہ ماہ ڈونرز کی ایک کانفرنس ہو رہی ہے، جس میں تعمیر نو کے لئے فراہم کی گئی معاونت میں توازن بھی دکھانا ہو گا۔

ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ نو ارب ڈالر سے زائد لگا چکے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ بحالی کے کام دو سے تین سال میں مکمل ہوں گے۔

برسلز میں منعقدہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اجلاس میں امریکہ، ایران، سعودی عرب اور یورپی ممالک سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس گروپ کی بنیاد 2008ء میں رکھی گئی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس