1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے مہم: دو امریکی شہریوں پر مقدمہ

امریکہ نے اپنے دو شہریوں پر پاکستان کے لیے غیرقانونی طور پر مہم چلانے کے الزامات لگائے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے متنازعہ خطے کشمیر پر مہم چلا رہے تھے۔

default

ان الزامات کے تحت ان امریکی شہریوں پر مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے باسٹھ سالہ سید غلام فائی کو ورجینیا میں گرفتار کیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے کسی دوسرے ملک کے لیے ایجنٹ کے طور پر رجسٹریشن نہیں کرائی تھی۔

تریسٹھ سالہ ظہیر احمد پر بھی مقدمہ قائم کیا گیا ہے، تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں۔ ان دونوں نے امریکی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے عدالت کو دیے گئے ایک بیان کے مطابق 1990ء کی دہائی کے وسط سے اب تک پاکستان نے امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس میں کشمیر کے لیے مہم چلانے پر کم از کم چالیس لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ یہ مہم سید غلام اور کشمیر امریکن کونسل کے ذریعے چلائی گئی، جسے کشمیر سینٹر بھی کہا جاتا ہے۔ سید غلام اس سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔

ایف بی آئی کے عدالتی بیان کے مطابق سید غلام کی تنظیم کو پاکستان سے سالانہ سات لاکھ ڈالر موصول ہوتے رہے ہیں، جنہیں امریکی سیاستدانوں کو پاکستانی مؤقف پر قائل کرنے، کانفرنسوں کے انعقاد اور ایسی دیگر سرگرمیوں پر خرچ کیا جاتا رہا۔

مشرقی ورجینیا کے لیے امریکی اٹارنی نیل مکبرائیڈ کے مطابق سید غلام پر الزام ہے کہ انہوں نے کشمیر پر امریکی مؤقف کو متاثر کرنے کے لیے اپنی کوششوں کے پیچھے پاکستانی حکومت کے ہاتھ کو چھپایا۔

25.08.2009 DW-TV Global 3000 Flagge PAKISTAN

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں

عدالت کو دیے گئے ایف بی آئی کے بیان کے مطابق ایک گواہ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ سید غلام کو ملنے والی رقم میں سے کچھ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے فراہم کی۔ اس گواہ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس مقدمے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ کشمیر کے تنازعے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل میں مرکزی خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس