1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے ایرانی قدرتی گیس، اگلے برس کے اختتام تک

ایران نے پاکستان کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ سن 2012ء کے اختتام تک پاکستان کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی شروع کر دے گا۔ یہ یقین دہانی پاکستانی اور ایرانی صدور کی ملاقات میں کروائی گئی۔

default

تہران کے دورے پر گئے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے ہفتے کے روز ملاقات کی۔ ملاقات میں احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان نئی گیس پائپ لائن اگلے برس کے اختتام تک قابل استعمال بنا دی جائے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ نئی گیس پائپ لائن بچھانے کا کام ایرانی علاقے میں مکمل ہو چکا ہے۔ ایران میں اس پائپ لائن کی لمبائی ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ ایرانی حصے میں اس پائپ لائن کی تکمیل بھی پاکستانی صدر کے اس مختصر دورہ ایران کی ایک وجہ تھی۔

Gipfeltreffen der Economic Cooperation Organization ECO in Teheran Iran

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے پر بھی اتفاق ظاہر کیا گیا

اس پائپ لائن کے ذریعے مجموعی طور پر 740 ملین کیوبک فٹ قدرتی گیس بھارت کو بھی فراہم کی جانی تھی، اسی وجہ سے اس پائپ لائن کو ’پیس‘ یا امن پائپ لائن کا نام دیا گیا تھا، تاہم نئی دہلی کو لاحق چند تحفظات کے باعث بھارت کو اس ڈیل سے الگ کر دیا گیا تھا۔

آصف علی زرداری اپنے ایک روزہ دورے پر ہفتے کی صبح تہران پہنچنے کے فوراً بعد ایرانی صدر سے ملنے صدارتی محل پہنچے۔ ایرانی صدر نے توقع ظاہر کی کہ جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

زرداری نے تجارتی حجم میں اضافے کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت امریکی ڈالر کی بجائی مقامی کرنسیوں میں ہونی چاہیے۔

پاکستانی صدر آصف زرداری نے گزشتہ ماہ بھی ایران کا دورہ کیا تھا۔ اپنے تازہ دورے کے دوران وہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملے۔ خامنہ ای نے کہا کہ قومی سلامتی کے لیے پاکستان کو اسلامی اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے اور اپنے دشمنوں سے پیچھا چھڑانا چاہیے۔ خامنہ ای نے کہا، ’پاکستانی عوام اور اس کی قومی سلامتی کے اصل دشمن مغربی ممالک خصوصاً امریکہ ہے۔ خدا پاکستان کو ان تمام دشمنوں سے محفوظ رکھے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM