1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے امریکی ايف سولہ طيارے، بھارت ناراض

امريکا کی جانب سے کہا کيا گيا ہے کہ پاکستان کو لاک ہيڈ مارٹن ايف سولہ لڑاکا طياروں سميت ديگر عسکری ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے۔ بھارت نے اس ڈیل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

نيوز ايجنسی اے ايف پی کی واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو آٹھ ايف سولہ طياروں سميت تقريباً 699 ملين ڈالر ماليت کے عسکری ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے۔ بيرونی ممالک کو اسلحے کی فروخت کی نگران امريکی ’ڈيفنس سکيورٹی کوآپريشن ايجنسی‘ کے مطابق فروخت کے اس منصوبے کے بارے ميں اسی ہفتے جمعرات کے دن کانگريس کو مطلع کيا جا چکا ہے۔

ايجنسی نے اس بارے ميں جاری کردہ اپنے بيان ميں لکھا ہے،’’يہ مجوزہ فروخت جنوبی ايشيا ميں ايک اسٹريٹيجک پارٹنر ملک کی سلامتی کی صورتحال بہتر بناتے ہوئے امريکی خارجہ پاليسی اور قومی سلامتی کے مطلوبہ مقاصد کے حصول ميں مدد فراہم کرتی ہے۔‘‘

بيان کے مطابق اس ڈيل کی مدد سے سکيورٹی خطرات سے نمٹنے کے ليے پاکستان کی موجودہ اور مستقبل کی ضروريات پوری ہوں گی۔ ايف سولہ لڑاکا طيارے پاکستانی ايئر فورس کو ہر قسم کے موسمی حالات اور رات کی تاريکی ميں بھی کارروائياں کرنے کا اہل بنائيں گے اور اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے آپريشنز کے ليے بھی پاکستان کی صلاحيتوں ميں اضافہ ہو سکے گا۔

پاکستانی فوج وزيرستان ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن جاری رکھے ہوئے ہے

پاکستانی فوج وزيرستان ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن جاری رکھے ہوئے ہے

دوسری جانب روايتی حريف ملک بھارت نے اس پيش رفت پر مايوسی کا اظہار کيا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ويکاس سوروپ نے ٹوئٹر پر اپنے ايک پيغام ميں لکھا، ’’ہم امريکی صدر باراک اوباما کی انتظاميہ کی جانب سے پاکستان کو ايف سولہ طياروں کی فروخت کا نوٹيفيکشن جاری کرنے پر مايوس ہيں۔‘‘

سوروپ نے واضح کيا، ’’ہم امريکا کے اس موقف سے اتفاق نہيں رکھتے کہ اسلحے کی ايسی ڈيل سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔‘‘ انہوں نے مزيد کہا کہ نئی دہلی انتظاميہ امريکی سفير کو طلب کر کے اس حوالے سے اپنے اعتراضات کا اظہار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے برعکس امريکی ڈيفنس سکيورٹی کوآپريشن ايجنسی کا اصرار ہے کہ فوجی ساز و سامان کی مجوزہ فروخت اور امريکی تعاون، خطے ميں عسکری توازن ميں کسی قسم کی کوئی تبديلی نہيں لائيں گے۔

ملتے جلتے مندرجات