1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی ممکنہ منسوخی

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اوباما انتظامیہ پاکستان کو دی جانے والی آٹھ سو ملین ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں موجودہ کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔

default

نیو یارک ٹائمز نے تین اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کے لیے دو بلین ڈالر کی دفاعی امداد میں سے آٹھ سو ملین ڈالر یعنی ایک تہائی سے زائد کی امداد کو ممکنہ طور پر روکا یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ان عہدیداروں کے مطابق اوباما انتظامیہ پاکستان سے امریکی فوج کے تربیتی ماہرین کی بے دخلی اور عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی مبینہ طور پر ناکافی کارروائیوں پر اسلام آباد سے ناراض ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی میں رواں برس مئی میں ایبٹ آباد میں پاکستانی فوج کی مرکزی تربیتی اکیڈمی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایک خفیہ امریکی فوجی کارروائی میں ہلاکت کے بعد سے شدید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈرون حملوں میں عسکریت پسندوں کے علاوہ عام شہریوں کی ہلاکت پر بھی اسلام آباد اور واشنگٹن حکومت کے درمیان تلخی پائی جاتی ہے۔

NO FLASH Hillary Clinton und Mike Mullen

پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے میں شدید نوعیت کا تناؤ پیدا ہوا ہے

امریکی اخبار کے مطابق پاکستانی فوج کو سکیورٹی معاونت کے سلسلے میں دی جانے والی اس امداد میں 300 ملین ڈالر وہ رقم ہے، جو افغان سرحد پر ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کے سلسلے میں پاکستانی فوج کے اخراجات کے سلسلے میں اسے واپس ملنا تھی۔ دیگر امداد فوجی ساز و سامان ہے، جو اب پاکستانی فوج کو نہیں دیا جائے گا۔ تاہم ان امریکی عہدیداروں کے مطابق تعلقات معمول پر آنے کے بعد یہ امداد بحال کر دی جائے گی۔

چند ہفتے قبل اسلام آباد نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں موجود امریکہ کے فوجی تربیت کار واپس بلا لے۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ اب تربیت صرف نئے فوجی ساز و سامان کے حوالے سے ہی لی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ سی آئی اے کے زیر استعمال پاکستان میں قائم ایک فوجی اڈہ بھی بند کر سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس