1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لاپتہ افراد کہاں گئے؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چھپن صفحات پر مشتمل ایک نئی رپورٹ میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں جنہیں دہشت گرد ی کے خلاف جنگ کے نام پر مبینہ طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

default

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو ایک ایسا نام دیا گیا یے جو بذات خود اس حوالے سے پاکستان میں سرکاری خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ کئے جانے والے افراد کی صورتحال کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے، ''ناقابل تردید کی تردید کرنے کی کوششں''۔

پاکستان میں عام شہریوں کے گمشدگی کے جبری واقعات نامی اس رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کی ہے کہ پاکستان میں ایسے تمام سینکڑوں افراد سے متعلق اعدادوشمار اور انکی مخلتف مقامات سے متعلق حقائق جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں ایسےتمام افراد کا احتساب کرنا چاہے ۔

جنھوں نےایسے واقعات میں کسی بھی حوالے سے کوئی کردار اداکیا ۔ایسے جتنے بھی قیدی ہیں حکام کو چایے کہ یا تو ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا انکے خلاف باقائدہ عدالتی کاروائی شروع کی جائے۔

سن دو ہزار چھ میں ایسے سینکڑوں پاکستانی لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے ڈیفیس آف ہیومن رائٹس کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کا تعلق بھی اسی تنظیم سے ہے انھوں نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تیس جولائی کو ان کے شوہر کو خفیہ اداروں کی حراست میں پورے تیس برس ہو جائیں گے مگرکچھ روز پہلے انکے شوہر کو راولپنڈی میں دیکھا گیا ہے ۔ انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ انکے شوہر کو بازیاب کرانے کے لیے انکی مدد کی جائے ۔ انھوں نے بتایا کہ انکی تنظیم کے مطابق پاکستان میں تقریبا دس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق کئی واقعات میں گرفتار شدگان میں نو دس سال کے بچے بھی شامل ہیں جنھیں کئی کئی ہفتے تک قید میں رکھا گیا تاکہ متعلقہ مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کیا جا سکےاس رپورٹ میں ہی بھی کہی گیا کہ کس ظرح خفیہ سروسز کے کارکن اچانک لاپتہ ہو جانے والے ایسے افراد کی تلاش کے سلسلے میں انکے اہلخانہ اور سماجی اداروں اور امدادی اداروں کی طرف سے کی جانے والی کوششون میں جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈالتے ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہی واقعات کے حوالے سے مغربی ملکوں کی حکومتوں خاص کر امریکہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردون کے خلاف جنگ کے نام پر مبیبہ طور پر مشتبہ طور پر افراد کی اچانک گمشدگی کے ایسے واقعات کے حوالے سے پاکستانی خفیہ اداروں کی کسی بھی طرح کی کاروائوں کی کوئی براہ راستہ یا بالواستہ تائید وحمایت نہ کرے۔