1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد، بھارت کو شدید تشویش

بھارت نے پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد اور تعاون کے حجم کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ یہ امداد اسلام آباد کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس کے ذریعے بھارت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

default

ببھارتی وزیر دفاع انتھونی نے پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد کو غیر متناسب قرار دیا

اس سلسلے میں بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے اس بارے میں اس کی تشویش سے امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اور امریکی افواج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کو اس وقت آگاہ بھی کر دیا گیا تھا، جب انہوں نے ابھی حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا۔

بھارتی وزیر دفاع انتھونی نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی کی نظر میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی طرف سے جو فوجی ساز و سامان مہیا کیا جا رہا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کی کہ اسلام آباد کو ضرورت ہو سکتی ہے۔

Mike Mullen

ان خدشات کا اظہار انھوں نے ایڈمرل مائیک مولن سے بھی کیا

اے کی انتھونی کے بقول: ’’نئی دہلی پاکستان کو دئے جانے والے اس فوجی ساز و سامان کے بارے میں واضح تحفظات رکھتا ہے اور اس طرح کے بہت حساس عسکری آلات اور فوجی ساز و سامان کا پاکستان کو دیا جانا نئی دہلی کے لئے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔‘‘

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے کے انتھونی نے کہا کہ یہ بات بعید از امکان نہیں کہ پاکستان اس جدید ترین ساز وسامان کو بھارت کے خلاف استعمال کرے۔

قبل ازیں بھارت نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو عرف عام میں ڈرون کہلانے والے وہ جاسوس طیارے مہیا کرنے کے فیصلے پر بھی پر زور احتجاج کیا تھا، جو بغیر پائلٹ کے پرواز کرتے ہیں۔

امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ ساز و سامان اس لئے مہیا کر رہا ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیابی کے لئے اسلام آباد کو اپنا ناگزیر اتحادی تصور کرتا ہے، اور وہ بھی اس لئے واشنگٹن کی رائے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی قبائلی علاقے القاعدہ اور طالبان کی وجہ سے دنیا کے انتہائی خطرناک علاقے بن چکے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت :مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس