1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے لئے امریکی امداد : پہلی قسط میں بجلی اور پانی ترجیحی شعبے

امریکی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی 1.5 بلین ڈالرکی سالانہ امداد میں بجلی اور پانی جیسے منصوبہ جات کو مرکزی توجہ دی جائے گی۔ امریکی کانگریس نے اس امدادی بل کو اتوار کے روز منظور کر لیا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے ابھی اس امدادی بل پر دستخط کرنا ہیں

امریکی صدر باراک اوباما نے پاکستان میں انتہا پسندی کے نمٹنے کے لئے سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کا ایک امدادی منصوبہ تجویز کیا تھا۔ یہ امدادی رقم پانچ سال کے دوران اقساط کی صورت میں پاکستان کو دی جائے گی۔ باراک اوباما نے افغانستان کو تشدد آمیز کارروائیوں کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں طالبان باغیوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔

پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی پہلی قسط کو اتوار کے روز سینٹ میں منظوری ملی جبکہ ایوان نمائندگان نےگزشتہ ہفتے اس بل کو پاس کیا تھا۔ پاکستان میں کئی حلقے اس امداد کو پاکستان کی خود مختاری کے لئے خطرہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے امداد کا یہ نیا منصوبہ ، پاکستان کو دئے جانے والے پہلے امدادی منصوبوں سے مختلف ہوگا۔ اس سے قبل پاکستان کو دی جانے والی امداد پاکستان میں سرگرم امریکی اداروں کے ذریعے استعمال میں لائی جاتی تھی تاہم اس مرتبہ یہ امداد حکومتی اداروں اور مقامی گروپوں کے ذریعے صرف کی جائے گی۔

Flash-Galerie Pakistan: Soldaten in Lahore, Pakistan

امید کی جا رہی ہے کہ اس امداد سے پاکستان میں انتہا پسندی میں کمی واقع ہو گی

اس طریقہ کار پر امریکی کانگریس کے کئی ممبران نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح بد عنوانی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے اس امدادی رقم کو خرچ کرنے کے لئے سخت ضوابط طے کئے ہیں۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پیر کے روز اس رقم کے شفاف خرچ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرے گا۔ اس رپورٹ میں مالی امداد کے موثر انداز میں استعمال لائے جانےاور ضائع ہونے سے بچانے کے سلسلے میں مزید تفصیلات مہیا کی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز نے ایک سنئیر امریکی سینیٹر کا حوالہ دیتےہوئے کہا ہے کہ اس بار حکمت عملی یہ ہے کہ پاکستانی اداروں اور عوام کے ساتھ مل کر کام کیا جائےتاکہ شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔

Barack Obama Afghanistan Diskussion

باراک اوباما قومی سلامتی کے مشیروں سے مذاکرات کرتے ہوئے

اطلاعات کے مطابق پاکستانی اور بین الاقوامی آڈیٹرز پاکستان کے پچاس سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے علاوہ ان گروپوں کے پاس بھیجے جا چکے ہیں جو وہاں ان اداروں کے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کے بعد ایک رپورٹ وضع کریں گے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے اداروں کے بارے میں پہلے ہی معلومات اکٹھی کی جا سکیں جو ممکنہ طور پر اس امداد کے لئے درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔

پاکستان میں کئی ماہرین نے اس نئے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں شہری حکومت نہایت کمزور ہے اور وہ اس امداد کو ایماندارنہ طریقے سے خرچ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

موجودہ امدادی پروگرام میں توانائی کے شعبوں کے علاوہ صحت، تعلیم اور اچھے طرز حکمرانی کو بھی ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔ اس منصبوے میں باراک اوباما کی انتظامیہ مقامی غیر سرکاری اداروں کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے ان منصوبوں پر عمل پیرا ہو گی۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے عوام میں امریکی مخالف جذبات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM