1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے قبائلی علاقے میں خودکش حملہ، چھ افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں آج ایک خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ اکتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

روئٹرز سے بات کرتے ہو ئے مقامی سرکاری اہلکار شوکت اللہ نے، جو کہ اس دھماکے سے چند میٹر کی دوری پر تھے، کہا کہ خود کش حملہ آور کا ہدف نیم فوجی دستوں کی ایک گاڑی تھی جو کہ ایک سرکاری کمپاؤنڈ میں کھڑی تھی۔

شوکت اللہ نے مزید کہا، ’میں جیسے ہی دفتر میں داخل ہو کر اپنی کرسی پر بیٹھنے لگا تو ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ ایسا لگا جیسے کہ پوری عمارت منہدم ہو گئی ہے۔‘

بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کو پشاور کے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جو کہ جمرود سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ڈاکٹر نور وزیر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضا فہ ہو سکتا ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور کہا کہ یہ حملہ حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

پاکستانی طالبان افغان طالبان کے اتحادی قرار دیے جاتے ہیں اور اسلام کے سخت قوانین کے نفاذ کے لیے پاکستانی فوج سے لڑ رہے ہیں۔

Selbstmordanschlag in Pakistan

زخمیوں کو پشاور کے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

پچھلے سال اکتوبر سے پاکستانی افوج دیگر قبائلی علاقوں کی طرح خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائی کر رہی ہے، جس میں ہزاروں دہشت گردوں کو زمینی اور فضائی حملوں میں مارا جا چکا ہے۔ اس لڑائی میں متعدد فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری’ آپریشن ضرب عضب‘ نامی عسکری آپریشن کی وجہ سے ہزاروں دہشت گردوں نے خیبر ایجنسی میں پناہ لے لی ہے اور وہیں سے یہ حملے بھی کرتے ہیں۔