1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ’قاتل پہاڑ‘ پر دو غیرملکی کوہ پیما لاپتہ

پاکستانی امدادی ٹیموں نے اسپین اور ارجنٹائن کے دو لاپتہ ہو جانے والے کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دونوں کوہ پیما پاکستان کی ’قاتل پہاڑ‘ کے نام سے مشہور چوٹی سر کرنا چاہتے تھے۔

پاکستان کی امدادی ٹیموں نے لاپتہ ہو جانے والے اسپین کے البیرٹو سیرائن اور ارجنٹائن کے ماریانو گلسین کی تلاش شروع کر دی ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے ترجمان قرار حیدری کے مطابق موسم کی خرابی کی وجہ سے ابھی تک اس امدادی مشن میں ہیلی کاپٹروں کو شامل نہیں کیا گیا۔

یہ دونوں کوہ پیما اس تیرہ رکنی ٹیم کا حصہ تھے، جس نے دنیا کی نویں بڑی چوٹی نانگا پربت کو سر کرنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز گزشتہ ماہ کیا تھا۔

 یہ انتہائی خطرناک تصور کی جانے والی چوٹی 8,126 میٹر بلند ہے۔ آخری مرتبہ ان دونوں لاپتہ کوہ پیماؤں سے رابطہ ہفتے کے روز ہوا تھا۔  قرار حیدری کے بقول ٹیم کے باقی کوہ پیما واپس بیس کیمپ میں پہنچ گئے ہیں۔

Lager Nanga-Parbat-Expedition 1953 (picture-alliance/dpa)

نانگا پربت کا بیس کیمپ

نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے قرار حیدری کا کہنا تھا، ’’اس طرح کے شدید خراب موسم میں اور کھانے کے بغیر ان کا زندہ رہنا انتہائی مشکل ہوگا لیکن چند برس پہلے حیران کن طور پر ٹومیز ہومر نامی ایک کوہ پیما زندہ رہنے میں کامیاب رہا تھا۔‘‘ حیدری کا مزید کہنا تھا کہ دونوں کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

سن دو ہزار پانچ میں سلووینیا کا کوہ پیما ہومر بھی نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ وہ پاکستان آرمی کے ایک ہیلی کاپٹر کو چھ دن بعد چھ ہزار میٹر کی بلندی پر پھنسا ہوا ملا تھا۔

سات ہزار میٹر سے زیادہ بلند چوٹیوں کے لحاظ سے پاکستان کا مقابلہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ والے ملک نیپال سے کیا جا سکتا ہے۔  دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ کے ٹو بھی پاکستان میں واقع ہے۔ اسی طرح پاکستان میں تین دوسرے ایسے بلند پہاڑ بھی واقع ہیں، جن کا شمار دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔

سن دو ہزار تیرہ میں پولیس کی وردی میں ملبوس ایک مسلح عسکریت پسند نے نانگا پربت کے بیس کیمپ میں فائرنگ کرتے ہوئے دس غیرملکی کوہ پیماؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان جانے والے کوہ پیماؤں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی۔  تاہم اب وہاں کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور وہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔