1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدید زلزلہ

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بدھ کی صبح شدید زلزلے سےدو سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئےجب کہ درجنوں مکانات اور عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔

default

ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.4تھی

زلزلے سے متاثرہ پاکستانی صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر کے مطابق اس زلزلے میں آٹھ دیہاتوں میں کم سے کم دو سو پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زلزلے سے سب سے زیادہ زیارت کا علاقہ متاثر ہوا جہاں ایک سو پچاس افراد جاں بحق اور دو سو ستاون زخمی ہوئے۔

Pakistan Erdbeben

زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے

امریکی جغرافیائی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6.4 تھی اور اس کا مرکزصوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق مین تقریبا ساٹھ کلو میٹر دور تھا۔ زلزلے سے متاثرہ قلعہ عبداللہ، پشین، لورالائی، ہرنائی، زیارت، سبی، مستونگ اور دیگرعلاقوں میں فرنٹئیر کانسٹیبلری اور فوج امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم ذرائع مواصلات کا نظام بری طرح متاثرہونے کی وجہ سے نقصان کا صحیح اندازہ لگانے اورامدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

Pakistan Erdbeben

صبح سویرے آنے والے اس زلزلے میں 150سے زائد افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے

پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے دو ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں بھیج دیئے گئے ہیں۔


زلزلے کی وجہ سے پہاڑی تودے گرنے سے زیارت کے پانچ گاؤں تباہ ہوگئے۔ قریبی دیہات ورچوم اور کہان سے ملبے سے درجنوں لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات پاکستان قمر الزمان نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ شہر سے ساٹھ کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا اور اس کی گہرائی دس کلومیٹر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک تیرہ کے لگ بھگ آفٹر شاکس ریکارڈ کئے جاچکے ہیں اور آفٹر شاکس کا یہ سلسلہ مزید ایک ہفتے تک جاری رہے گا جس کے بعد ان میں کچھ کمی آنا شروع ہوگی۔

Pakistan Erdbeben

زلزلے سے زخمی ایک عورت کو طبی امداد دی جا رہی ہے

قمر الزمان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں اگلے ایک ہفتے تک بارش کا امکان نہیں ہے جو امدادی سرگرمیوں میں شریک لوگوں کے لئے کچھ آسانی کا باعث ہو گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ علاقے پہلے سے ہی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں اور یہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے آس پاس ہے اس لئے امدادی ٹیموں کو اس طرف توجہ دینی ہو گی کہ زلزلہ سے بچ جانے والے افراد کو شدید سردی کی وجہ سے مزید نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

Audios and videos on the topic