1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے شمالی علاقوں کو نیا نام دے دیا گیا

حکومت پاکستان نے ملک کے شمالی علاقوں کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صوبائی طرز کی خودمختاری دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان ہفتہ کو کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا گیا۔

default

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ شمالی علاقہ جات کا نیا نام گلگت بلتستان ہوگا اور وہاں انتخابات کے ذریعے پانچ سالہ مدت کےلئے 33 رکنی قانون ساز اسمبلی منتخب کی جائے گی جو وزیراعلیٰ کا انتخاب کرے گی: 'گہرے سوچ و بچار اور صلاح مشورے کے بعد کابینہ نے نئے صدارتی آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے جس کے کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ کا نیا نام گلگت بلتستان ہو گا۔'

Yousaf Raza Gilani Pakistan Wahlen

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وزیراعظم نے کہا کہ صدر مملکت گلگت بلتستان کے لئے وفاق کے نمائندے کے طور پر گورنر کا تقرر کریں گے جبکہ انتخابات کے انعقاد تک وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے ۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان کےلئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرز پر سپریم کورٹ اور ایک پندرہ رکنی قانون ساز کونسل کی تشکیل بھی دی جائے گی جبکہ انتخابات اور احتساب کےلئے ایک خودمختار الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل کا تقرر بھی کیا جائے گا۔

نیوز کانفرنس میں موجود وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں شمالی علاقہ جات کی متنازعہ حیثیت کے سبب اسے مکمل صوبے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ خیال رہے کہ 20 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل گلگت بلتستان کے لوگوں نے بالترتیب 1947-48ء میں برطانوی اور ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا تاہم باسٹھ سال گزرنے کے باوجود یہ علاقے پاکستانی آئین کا حصہ نہیں بن پائے۔

Nanga Parbat

پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی حسن سے مالامال ہیں

اسی سبب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ق اب بھی شمالی علاقہ جات کے لئے نئی اصلاحات خصوصا انتخابی عمل کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے۔ اس بارے میں مسلم لیگ ق کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے بتایا:'نہ تو انتخابات کی کوئی واضح تاریخ سامنے آئی ہے اور ویسے بھی مسلم لیگ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارموں کی تقسیم میں دھاندلی کا جو الزام لگایا تھا وہ وزیراعظم کے اپنے خط میں ثابت ہو چکا ہے کہ یہ فارم صرف ارکان قومی اسمبلی کو نہیں بلکہ سول سوسائٹی کے ممبرز کو دیے گئے ہیں۔ اس سے آئندہ انتخابات کے بارے میں پیپلز پارٹی کی سوچ واضح ہے۔'

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت شمالی علاقہ جات کے لئے اعلان کردہ اصلاحاتی پیکیج پر جلد از جلد عملدرآمد اور پھر گلگت بلتستان کے سیاسی معاملات میں وفاق کی عدم مداخلت کی یقین دہانی کے ذریعے اس علاقے کے عوام کا دیرینہ احساس محرومی ختم کر سکتی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: ندیم گِل