1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے سیلاب نے سونامی سے زیادہ تباہی مچائی

اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو سن 2004ء کے سونامی اور 2005ء کے کشمیر زلزلے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے متاثرین کے لئے کئی ملین ڈالر امداد کی اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

default

لاکھوں متاثرین میں سے ایک سندھ کی سکینہ سموں

یہ اعلان نیویارک میں یو این کے صدر دفتر میں سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کیا۔ یو این کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد کا اندازہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کے برابر ہوچکا ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ بہت جلد باضابطہ طور پر امدادی اداروں سے ہنگامی امداد کی اپیل کی جائے گی۔

انہوں نے پہلے ہی پاکستانی متاثرین کی دل کھول کر امداد کرنے کی اپیل کر رکھی ہے۔ بان کی مون نے مزید کہا کہ صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ پاکستان کو طویل اور وسط مدتی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

مظفر گڑھ کی ایک ماں

یو این کے علاوہ پاکستانی حکومت بھی بین الاقوامی برادری سے مزید ہنگامی بنیادوں پر امداد کی اپیلیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی وادی ء سوات سمیت پنجاب اور سندھ صوبوں کے بعض علاقوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پنجاب میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے قوم سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کا شدید ترین سیلاب ہے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق بیرونی امداد کی مد میں 93 ملین ڈالر کے وعدے کئے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتبہ شدت پسندوں سے روابط رکھنے والی خیراتی تنظیمیں امدادی سرگرمیوں میں زیادہ پیش پیش نظر آرہی ہیں۔

سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز بھی اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔

پاکستان میں یو این کے دفتر برائے رابطہ ء انسانی معاملات کے ترجمان تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ بربادی کے منظر ہیٹی کے زلزلے اور 2005ء میں پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام منقسم کشمیر میں آئے زلزلے سے بھی بھیانک ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں 2005ء کے زلزلے میں تیس لاکھ افراد، 2004ء کے سونامی میں پچاس لاکھ افراد اور رواں سال ہیٹی میں آئے زلزلے میں تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ حالیہ سیلابوں نے پاکستان کے لگ بھگ ایک کروڑ 38 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔

Pakistan Überschwemmung Flut

خیبر پختونخوا کا ایک سیلاب زدہ محلہ

یو این کی جانب سے پاکستان میں آئے سیلاب میں 16 سو ہلاکتوں کی تصدیق کی جاچکی ہے جبکہ حکومتی سطح پر یہ تعداد 1243 بتائی جارہی ہے۔

2004ء سونامی سے جنوب مشرقی ایشیاء میں دو لاکھ بیس ہزار افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کے سیلاب نے پچاس ہزار افراد کو بے گھر کردیا ہے۔ مرکزی پنجاب میں چودہ لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے تاہم خیبر پخوانخوا میں نقصان اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM