1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین اور بچوں کی حالت زار

پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں حاملہ خواتین اور ننھے بچے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کو شکوہ ہے کہ حکومت ان کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات نہیں اٹھا رہی۔

default

بارش کو باران رحمت کہا جاتا ہے، لیکن آبادی کے دباؤ، محدود وسائل اور بدانتظامی کے باعث پاکستان میں بارش بھی رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ ابھی گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب سے نازل ہونے والی مصیبتوں سے ہی پوری طرح چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے تھے کہ صوبہ سندھ میں ہونے والی حالیہ بارشیں ان کے لیے موت اور تباہی کا پیغام بن گئیں۔

غیر متوقع بارشوں سے صوبہ سندھ کے اضلاع بدین، سانگھڑ اور حتیٰ کہ تھر کے صحرائی علاقے تک بری طرح متاثر ہوئے۔ مجموعی طور پر تیس لاکھ سے زائد لوگ ان بارشوں سے ہونے والی تباہی کی زد میں آچکے ہیں۔ سندھ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل صالح فاروقی کے مطابق بارشوں سے متاثرہ ایک لاکھ بیس ہزار حاملہ خواتین کو مختلف علاقوں میں قائم طبی کمیپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جن کی دیکھ بحال کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

Überflutung in Pakistan

سیلاب کے نتیجے میں حاملہ خواتین مشکلات سے دوچار ہیں

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ملکی اور غیر ملکی رفاعی اداروں سے خواتین اور بچوں کے لیے امداد کی اپیل بھی کی۔ سرکاری دعوے اپنی جگہ لیکن خود جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ انتظامات کس قدر موثر اور اطمنان بخش ہیں، یا پھر جس پر بیتے وہی  جانتا ہے۔ سول اسپتال بدین کے زچہ بچہ وارڈ کے دورے کے دوران وہاں موجود بیشتر خواتین نے ادویات اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی شکایت کی۔  اور پھر اسپتال کے اطراف کھڑے کئی فٹ پانی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مریض کس مشکل سے اسپتال تک پہنچتے ہیں۔

 اسپتال میں مریضوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ تھی حبس کی وجہ سے سانس لینا محال تھا۔  حد تو یہ ہے کہ اسپتال کی راہ داریوں اور سیڑھیوں پر بھی مریضوں کے لیے چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ لیکن اسپتال میں موجود خواتین پھر بھی شکر گزار تھیں کہ ان کے پاس سر چھپانے کو پختہ چھت تو ہے۔

اسپتال کے گائنی وارڈ کی انچارج ڈاکٹر نوشین میمن کے مطابق موجودہ حالات میں حاملہ خواتین دائیوں سے رجوع کرتی ہیں، جس سے شرح اموات میں ہولناک اضافے کا خدشہ ہے۔

Altaf Hussain Pakistan

ہر متاثرہ شخص کو حکومت اور سیاست دانوں سے شکایت ہے کہ وہ ان کی مدد کیلیے آتے تو ہیں لیکن صرف تصاویر بنوا کر واپس چلے جاتے ہیں

مگر بدین شہر سے کچھ فاصلے پر سڑک کنارے کیمپ میں موجود حاجرہ کو تو آدھی چارپائی اور اسپتال کی چھت بھی ابھی تک نصیب نہیں ہوسکی۔ چوتھے بچے کو جنم دینے کی امید میں حاجرہ سے اسکا حال پوچھا تو اس کے منہ سے الفاظ کی بجائے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ بڑی مشکل سے کچھ دیر میں اس نے بتایا کہ بارش اس کا کچا مکان اور عمر بھر کی جمع پونچی بہا لے گئی۔

حاجرہ کو یہ بھی شکوہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کھانے کی تقسیم کے لیے جو انتظام کیا گیا ہے وہ اسکے کیمپ سے بہت دور ہے اور اسکے لیے دن میں تین بار وہاں جانا ممکن نہیں۔  کھانا دینے والے کبھی آتے ہیں کبھی نہیں۔ حاجرہ کو ملال ہے کہ اسکا چند ماہ بعد دنیا میں آنے والا بچہ تو پیدائش سے پہلے ہی بیماریوں کا شکار ہوگیا۔

 یہ صرف حاجرہ کی کہانی نہیں، یہاں تو ہر حاملہ خاتون  کا یہی المیہ ہے۔  یہی وجہ ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ہر شخص کو حکومت اور سیاست دانوں سے شکایت ہے کہ وہ ان کی مدد کیلیے آتے تو ہیں لیکن صرف تصاویر بنوا کر  واپس چلے جاتے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: حماد کیانی

DW.COM