1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں، اعلیٰ بھارتی حکام

دو اعلیٰ بھارتی حکومتی اہلکاروں کے بقول نئی دہلی ملکی معیشت کی ترقی پر توجہ دینے کا متمنی اور پاکستان کے ساتھ کشمیر میں کنٹرول لائن پر متعدد واقعات کے بعد پائی جانے والی موجودہ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔

Grenze zwischen Indien und Kaschmir Soldaten (picture-alliance/AP Photo/C. Anand)

بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں کنٹرول لائن پر گشت کرتے بھارتی فوجی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے نیوز ایجنسی روئٹرز کی جمعہ 14 اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان بھارتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی ’کشمیر میں کنٹرول لائن کے پار عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائی‘ کے بعد اپنے جنوبی ایشیائی ہمسایہ ملک اور حریف ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ ان دونوں اعلیٰ بھارتی حکام نے ان وسیع تر خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی، جو پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر میں کنٹرول لائن پر حالیہ واقعات اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد سے کسی ’ممکنہ اور بڑے تصادم‘ کے حوالے سے پائے جاتے ہیں۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ باتیں جن دو اعلیٰ بھارتی شخصیات نے کہیں، وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی ان کوششوں میں بھی عملی طور پر شامل ہیں، جن کے تحت مودی پاکستان سے متعلق ایک نئی اور زیادہ ٹھوس حکمت عملی کے خواہش مند ہیں۔

ان میں سے ایک بھارتی حکومتی اہلکار نے کہا کہ نئی دہلی اس وقت بھی اپنے ہاں زیادہ تیز رفتار اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور پاکستان کے ساتھ کوئی ایسا تصادم نہیں چاہتا جو اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنے۔

Indien Protesten in Kashmir (picture-alliance/Pacific Press/F. Khan)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے خونریز مطاہرے جاری ہیں

’جنگ لڑنا ہی نہیں پڑے گی‘

اس حکومتی اہلکار کے بقول، ’’ہم اپنے لیے جامع قومی طاقت کو ترقی دینا چاہتے ہیں، اقتصادی اور عسکری سے لے کر سفارتی طاقت تک۔ ہمیں وقت درکار ہے۔ اگر ہم اسی راستے پر آگے بڑھتے رہے، تو طاقت کے لحاظ سے 2025ء تک ہمارا اور پاکستان کا فرق اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ تب کوئی جنگ لڑنا ضروری ہی نہیں رہے گا۔‘‘

روئٹرز نے ان دونوں بھارتی اہلکاروں کے اس موقف کا پس منظر واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کی عسکری احتراز کی روایتی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے گزشتہ ماہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کشمیر میں کنٹرول لائن کے پار اس متنازعہ خطے کے پاکستان کے زیر انتظام حصے میں اپنی اسپیشل فورسز بھیجی تھیں، جنہوں نے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔ نئی دہلی کے بقول ان مبینہ ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ میں عسکریت پسندوں کی ایک غیر واضح تعداد کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور یہ کارروائی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک آرمی بیس پر مبینہ طور پر پاکستان سے آئے عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے جواب میں کی گئی تھی۔

Indien Protesten in Kashmir (picture-alliance/Pacific Press/U. Asif)

ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 80 کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کی طرف سے تردید

دوسری طرف پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس کا کشمیر میں اُڑی کے مقام پر بھارتی آرمی بیس پر حملے سے کوئی تعلق نہیں اور بھارتی فورسز نہ تو کنٹرول لائن پار کر کے پاکستان کے زیر انتظام کسی علاقے میں داخل ہوئیں اور نہ ہی وہاں کوئی ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کی گئیں۔

ساتھ ہی پاکستان نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوئی کوشش کی، تو اس کا یقینی طور پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اسی دوران پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعے کے روز کہا گیا کہ بھارت کنٹرول لائن کے حوالے سے جو دعوے کر رہا ہے، ان کا اصل مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری کشمیری مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونریز کریک ڈاؤن سے توجہ ہٹانا ہے۔

Indien Kaschmir Indische Paramilitärs (picture-alliance/AP Photo/D. Yasin)

بدامنی کی موجودہ لہر میں پانچ ہزار سے زائد بھارتی سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہو چکے ہیں

چھ سال کے دوران شدید ترین بدامنی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جو مظاہرے جاری ہیں، وہ وادی میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران نظر آنے والی بدامنی اور خونریزی کی سب سے بڑی لہرکی وجہ بنے ہیں۔ اس دوران کم از کم 80 عام کشمیری شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین کے ساتھ تصادم میں کم از کم دو بھارتی پولیس افسران بھی مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمی سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بھی 5000 سے زیادہ ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات