1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ کرنسی کے تبادلے کا چینی فیصلہ

چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی کے تبادلے کے ایک ایسے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد بیجنگ کے سخت کنٹرول میں کام کرنے والی چینی کرنسی یوآن کے بیرون ملک استعمال کو بتدریج وسعت دینا ہے۔

default

بیجنگ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق چین ہانگ کانگ اور جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تجارت میں اپنی کرنسی یوآن کے محدود استعمال کی اجازت دے چکا ہے تاکہ چینی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے تھائی لینڈ کے مرکزی بینک سمیت ارجنٹائن اور کئی دیگر ریاستوں کے مرکزی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی معاہدے طے کیے جا چکے ہیں۔

آج ہفتے کے روز چینی مرکزی بینک کی طرف سے کہا گیا کہ اس نے کل جمعے کے روز پاکستان کے مرکزی مالیاتی ادارے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ یہ اتفاق کر لیا تھا کہ چین پاکستان کے ساتھ 10 بلین یوآن یا قریب 1.6 بلین امریکی ڈالر کے برابر ادائیگی کر کے 140 بلین پاکستانی روپے خریدے گا۔

چینی مرکزی بینک نے بغیر کوئی تفصیلات بتائے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں یوآن اور پاکستانی روپے کا تبادلہ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا۔

Symbolbild China Pakistan Beziehungen

چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے

ایسے دو طرفہ معاہدوں سے مرکزی بینکوں کو ایک دوسرے کے ملک کی کرنسیوں تک بڑی مقدار میں دسترس تو حاصل ہو جاتی ہے تاہم تجارتی بینکوں کو دوسرے ملک کی کرنسی میں لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنے کے لیے پھر بھی اپنے لیے کوئی نہ کوئی نیا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چین کے امریکہ اور کئی دیگر بڑے تجارتی ساتھی ملکوں کا الزام ہے کہ بیجنگ حکومت اپنی بہت سخت مالیاتی پالیسی کے ساتھ چینی یوآن کو ایکسچینج ریٹ کی مناسبت سے دانستہ طور پر اتنا کم قیمت رکھتی ہے کہ یوں چینی برآمدات کو ناجائز فائدہ حاصل ہوتا ہے اور چینی برآمدات اپنے ہاں درآمد کرنے والے ملکوں کی مقامی منڈیوں اور پیداوار کو نقصان پہنچتا ہے۔

کئی امریکی ارکان کانگریس یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ بیجنگ کو فوری طور پر اپنی مالیاتی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے اور یوآن کی قدر کو دانستہ کم رکھنے کا رویہ ترک کر دینا چاہیے۔ ایسے امریکی ارکان کانگریس کے بقول اگر بیجنگ حکومت ایسا نہیں کرتی تو امریکہ کو اپنے ہاں پہنچنے والی چینی برآمدات پر سزا کے طور پر اضافی درآمدی محصولات عائد کرنے چاہیئں۔

چین نے جو اپنی کرنسی کو زیادہ سے زیادہ حد تک ایک انٹرنیشنل کرنسی کے طور پر دیکھنے کا خواہش مند ہے، مختلف ملکوں کے ساتھ یوآن کے ان ملکوں کی کرنسیوں کے ساتھ تبادلے کی سوچ بھی اسی لیے اپنائی ہے کہ یوآن کو آہستہ آہستہ ایک بین الاقوامی کرنسی بنایا جائے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM