1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ ’مزید ایک مرتبہ‘ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے، امریکا

امریکی وزیر دفاع کے مطابق اس سے پہلے کہ امریکی صدر پاکستان کی طرف سے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مبینہ حمایت کے حوالے سے دیگر امکانات کا جائزہ لیں، وہ ’مزید ایک مرتبہ‘ پاکستان سے مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان اور امریکا  کے مابین تعلقات گزشتہ ایک عشرے سے نشیب و فراز کا شکار چلے آ رہے ہیں لیکن اس وقت ان میں انتہائی سرد مہری پیدا ہو چکی ہے۔ امریکی حکام ایک طویل عرصے سے افغانستان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا یہ تازہ بیان اسلام آباد اور پاکستان کی فوج کے اندر تشویش کا باعث بنے گا۔

میٹس کا ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران کہنا تھا، ’’ہمیں نئی اسٹریٹیجی کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستانیوں کے ذریعے، ان کے ساتھ مزید ایک مرتبہ مل کر کام کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے، اگر یہ ہماری بہترین کوشش ناکام ہوتی ہے تو صدر (پاکستان کے خلاف) ہر وہ اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں، جو اس حوالے سے ضروری ہے۔‘‘

امریکی پابندیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، پاکستانی وزیراعظم

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں لیکن اس حوالے سے انہوں نے مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ ’پاکستان مخالف اقدامات‘ کے تحت امریکی ڈرون حملوں کا دائرہء کار پاکستان میں وسیع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شاید پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کے مرکزی درجے کو کم کر دیا جائے۔

قانون سازوں کی طرف سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا اسلام آباد کے ساتھ معاملات طے کرنے کے حوالے سے پاکستان سے غیر نیٹو مرکزی اتحادی کا درجہ واپس لینے پر غور کیا جا رہا ہے تو امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘

اسی طرح منگل کے روز سینیٹ کی ایک دوسری سماعت کے دوران ایک دوسرے اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے عسکری گروپوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور میرین کور  کے جنرل جوزف ڈنفورڈ کا کہنا تھا، ’’مجھ پر یہ واضح ہے کہ آئی ایس آئی کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطے ہیں۔‘‘

دوسری جانب امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ملک بھر میں انہیں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’اگر اسی طرح کی کامیابیاں افغانستان میں نہ حاصل کی گئیں تو خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔‘‘

امریکا افغانستان میں تین ہزار پانچ سو اضافی فوجی تعینات کرنے والا ہے۔ ابھی تک امریکا افغانستان میں سالانہ 12.5 بلین ڈالر خرچ کر رہا تھا جبکہ مزید فوجی بھیجنے کے بعد ان اخراجات میں 1.1 بلین ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔

DW.COM