1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ رشتہ اٹوٹ ہے: کیمرون

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک ’نہ ٹوٹنے والا‘ رشتہ قائم ہے۔ کیمرون نے یہ بات پاکستانی صدر آصف زرداری کے ساتھ جمعے کے روز ایک باضابطہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہی۔

default

لندن کے شمال مغرب میں واقع علاقے Chequers میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنرشپ خصوصا ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں‘‘ اسلام آباد کی مدد میں اضافہ چاہتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف مزید قریبی تعاون پر اتفاق ظاہر کیا۔ اپنے دورہء برطانیہ کے آغاز سے قبل فرانس میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا تھا کہ وہ برطانوی وزیراعظم سے ان کے ایک حالیہ متنازعہ بیان کے حوالے سے پاکستانی ناراضگی کا اظہار کریں گے۔

Asif Ali Zardari David Cameron England Pakistan Treffen

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے باعث اس ملاقات کو کافی اہمیت دی جا رہی تھی

تاہم جمعے کے روز ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔ برطانوی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہء بھارت کے دوران کہا تھا کہ پاکستان افغانستان، بھارت اور دنیا بھر میں ’’دہشت گردی برآمد‘‘ کر رہا ہے، جس کی اسے اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

صحافیوں سے مشترکہ بات چیت کے دوران صدر زرداری نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، لیکن پاکستان اور برطانیہ کی دوستی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ’’طوفان آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اور پاکستان اپنے دوست ملک برطانیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔ ہم مل کر وقار کے ساتھ ہر مشکل کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات اس دوستی کی مضبوطی کا باعث ہیں۔ ’’ہم مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان میں فوجی دستوں اور عوام کے ساتھ ساتھ اور برطانیہ کی گلیوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ ہماری حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔‘‘

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

صدر زرداری نے اس سے قبل فرانس کا دورہ کیا

مشترکہ بیان میں کیمرون نے کہا کہ لندن اور اسلام آباد نے دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ برطانیہ نے یورپی یونین اور امریکہ میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کے لئے راستہ ہموار کرنے میں مدد کا یقین دلایا ہے۔ زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو امداد سے زیادہ تجارت کی ضرورت ہے تاکہ اس کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔

پاکستان میں شدید ترین بارشوں اور سیلابوں کے حوالے سے بھی برطانیہ نے پاکستان کی امداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک خصوصی امدادی فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

پاکستانی تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث پاکستان میں 16 سو سے زائد افراد کی ہلاکت اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہو جانے کی وجہ سے زرداری کے دورہء یورپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ کی جانب سے خیرسگالی کے اس پیغام پر صدر زرداری کے دورہء برطانیہ پر پاکستانی عوام کی تنقید میں کوئی کمی آتی ہے یا نہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس