1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے، ری پبلکن سینیٹرز

ری پبلکن سینیٹرز نے زور دیا ہے کہ واشنگٹن، پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کی پالیسی کا مکمل جائزہ لے۔ دریں اثناء پاکستانی فوج نے افغان سرحد پرواقع ’ملٹری کوآرڈینیشن سینٹرز‘ سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

default

ری پبلکن سینیٹرز جان مککین

پیر کو جاری کیے گئے اس مشترکہ بیان میں جان مککین اور لنڈسے گراہم نے کہا، ’وقت آ گیا ہے کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا مکمل جائزہ لے۔ ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کو کس نوعیت اور کس سطح کی مدد فراہم کر رہی ہے‘۔

خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ منجھے ہوئے امریکی سیاستدانوں کی طرف سے یہ بیان، امریکہ میں کئی سیاسی حلقوں کے خدشات کا ترجمان ہے۔ اس تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی امریکی ممبران کانگریس چاہتے ہیں کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے دس سالہ تعاون کی پالیسی میں تبدیلیاں لائے۔

جان مککین اور لنڈسے گراہم نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے کے دوران کئی تلخ حقائق کے سامنے آنے کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی طرف اپنا رویہ انتہائی نرم رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کے ساتھ اپنی اقتصادی اورعسکری تعاون کی پالیسی کو پرکھے۔

جان مککین سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں اپوزیشن ری پبلکن پارٹی کے سینئر ترین رکن ہیں جبکہ لنڈسے گراہم اُس پینل کے اعلیٰ رکن ہیں، جو غیر ممالک کے لیے امریکی امداد کی پالیسی ترتیب دیتا ہے۔

Portrait Barack Obama

امریکی صدر باراک اوباما

ان دونوں سیاستدانوں نے کہا ہے کہ صدر باراک اوباما کی اتنظامیہ کو پاکستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے مبینہ طور پر جنگجوؤں کی مدد، امریکی فوجیوں اور امریکی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔

پاکستان میں امریکی کمانڈوز کے ایک خفیہ آپریشن کے دوران دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ابھی حال ہی میں مہمند ایجنسی میں واقع دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو فضائیہ کے حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات میں بہت زیادہ کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ اسی باعث پاکستانی حکومت نے افغانستان سے متعلق بون کانفرنس میں بھی شرکت نہیں کی۔

پاکستانی حکومت نے مہمند ایجنسی پر ہوئے نیٹو کے حالیہ حملے کی تحقیقات کے لیے امریکہ کا ساتھ دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اس واقعہ میں چوبیس پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔ جان مککین اور گراہم لنڈسے نے اس حملے کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کیا اور کہا کہ یہ حملہ غیرارادی اور حادثاتی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کے بعد اصل حقائق سامنے آ جائیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان امریکہ کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے تاہم حالیہ عرصے کے دوران مختلف واقعات کے رونما ہونے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کشیدگی نمایاں ہوچکی ہے۔

دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستانی فوج نے افغانستان سے ملحق اپنے سرحدی علاقے میں تعینات کچھ فوجیوں کو عارضی طور پر واپس بلوا لیا ہے، جو افغانستان میں تعینات حفاظتی امن فوج ایساف کے ساتھ رابطہ کاری کا کام کر رہے تھے۔

امریکی افواج کے مطابق ان مخصوص علاقوں سے پاکستانی فوجیوں کا انخلاء رابطہ کاری کے نظام پر منفی انداز سے متاثر ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان فوجیوں کو مشاورت کی غرض سے واپس بلایا جا رہا ہے اور ابھی تک ان فوجیوں کی مستقل واپسی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس