1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی امریکی کوششیں

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدرکے نمائندہ خصوصی مارک گروسمین نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

default

مارک گروسمین پاکستانی وزیر خارجہ کے ہمراہ

امریکہ اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ گروسمین یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں، جب امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔ مارک گروسمین نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں مارک گروسمین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اہم ہیں اور موجودہ علاقائی صورتحال کے پس منظر میں ان تعلقات نے اور بھی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پاکستان خطے میں ایک اہم شراکت دار ہے جبکہ دہشتگردی میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کی حیثیت سے اس کی دنیا میں بھی بہت اہمیت ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی رفتار آنے والے دنوں میں تیز ہو گی۔

Marc Grossman

مارک گروسمین نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات بھی کی

انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر خطے کے امن و استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہماری زیادہ تر بات چیت دو طرفہ سطح پر تھی کہ کس طرح اس پارٹنرشپ کو بڑھایا جائے، جو کہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لئے اہم ہے‘‘

حنا ربانی کھر نے کہا کہ بات چیت کا عمل جاری رہے گا اور جب یہ بات چیت آگے بڑھے گی تو ہمارے ذہن ملیں گے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

امریکی نمائندہ خصوصی مارک گروسمین نے کہا کہ یہ ان کا پاکستان کا پانچواں دورہ ہے اور انہوں نے یہاں پاکستانی قیادت سے، جو ملاقاتیں کی ہیں، ان میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ استنبول اور بون کانفرنس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل انہوں نے وسط ایشیائی ریاستوں بیجنگ، ترکی اور بھارت کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بین الاقوامی برادری اس خطے کو محفوظ و مستحکم بنانے کے لیے افغانستان کی مدد کرے۔’’مستحکم افغانستان خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے اور پاکستان اور افغانستان کے لیے سکیورٹی انتہائی اہم ہے‘‘

انہوں نے کہا، ’’خطے میں امن کے لیے پاکستان اور امریکہ کے ذہن ملے ہوئے ہیں۔ ہم نے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات کی ہے، جو امریکہ اور پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ ہم نے مستقبل کے بارے میں بہت سی بات چیت کی کہ کس طرح پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رکھے جائیں اور اس کام کو جاری رکھا جائے، جو ہم مل کر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM