1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، ایس ایم کرشنا

بدھ کو بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں اعتماد کا عنصر بڑھ رہا ہے۔

default

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا

مالدیپ میں جنوبی ایشیائی ملکوں کی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے اجلاس میں روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت ایک انتہائی مثبت ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔

2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد دونوں جوہری مسلح ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور دہشت گردوں پر پاکستانی گروپ لشکر طیبہ سے تعلق کا الزام لگایا گیا تھا۔

ان حملوں کے بعد بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان امن عمل کو ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ لشکر طیبہ اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان مبینہ روابط موجود ہیں۔

Anschläge am 26. November 2008 in Mumbai Indien

2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے

تاہم اس کے بعد مختلف سربراہی اجلاسوں اور مذاکرات کے ذریعے دونوں ملکوں کے تعلقات ایک بار پھر معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جولائی میں ایس ایم کرشنا اور ان کی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات کے اختتام پر تعاون کے ایک ’نئے عہد‘ کی بات کی گئی۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی کابینہ کے ایک اعلان میں کہا گیا کہ اس نے بھارت کو ’پسندیدہ ترین ملک‘ قرار دینے کی ایک تجویز منظور کی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پار تجارت کو کھولنے میں مدد ملے گی۔

دونوں اہم ملکوں کے درمیان تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر کافی زور دیا ہے اور اسے امید ہے کہ کشیدگیوں میں کمی کے باعث پاکستان کو اپنی مغربی سرحدوں پر سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ پر توجہ دینے میں مدد ملے گی جو کہ افغانستان میں فعال ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM