1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے ساتھ باڑ پر لائیٹیں لگانے کی نقلی تصویر

بھارتی وزارت داخلہ نے پاکستان کی سرحد پر لائیٹیں لگانے اور اپنے کام کی تشہیر کے لیے ایک ایسی تصویر شائع کی ہے، جو اسپین اور مراکش کی سرحد کی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے مبینہ طور پر چوری شدہ تصویر کو شائع کرنے کا مقصد پاکستان کی سرحد پر لگائی جانے والی لائیٹوں کی اہمیت کو اجاگر اور اپنی تشہر کرنا تھا۔ یہ تصویر بھارتی وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ میں شائع کی گئی ہے اور اس کے ساتھ باقاعدہ طور پر وہاں لگائی جانے والی لائیٹوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

بھارتی وزارت داخلہ کا ’جھوٹ‘ بدھ کے روز اس وقت پکڑا گیا، جب ’آلٹ نیوز‘ نامی ایک ویب سائٹ نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ یہ ویب سائٹ جعلی خبروں کی نشاندہی کرنے کے حوالے سے مہارت رکھتی ہے۔

اس ویب سائٹ کے دعوے کے مطابق بھارت کی طرف سے شائع کی جانے والی تصویر اسپین اور مراکش کی سرحد کی ہے اور یہ ایک ہسپانوی فوٹوگرافر جاویر مویانو کی طرف سے سن 2006ء میں کھینچی گئی تھی۔

یہ رپورٹ اور تصویر جمعرات تک حکومت کی ویب سائٹ پر موجود تھی، اس کے باوجود کہ اعلیٰ حکام اس ’شرمناک اور بے تکی حرکت‘ کی انکوائری کا حکم بھی دے چکے ہیں۔ ہوم سیکریٹری راجیو مہرشی کا کہنا تھا کہ ’’اگر یہ غلطی وزارت کی ہوئی تو ہم معافی مانگیں گے۔‘‘

بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی طویل سرحدوں پر لائیٹیں لگانے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی اسمگلنگ اور غیر قانونی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی سرکاری رپورٹوں میں غلط یا فوٹو شاپ کی گئیں تصاویر شائع کی گئی ہوں۔ سن دو ہزار پندرہ میں وزیراعظم نریندر مودی کی سیلاب کا جائزہ لیتے ہوئے ایک تصویر شائع کی گئی تھی، جو سوشل میڈیا پر مذاق بن کر رہ گئی تھی۔ بعد میں پتا چلا تھا کہ اسے ایڈیٹ کیا گیا تھا۔

اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کا کہنا تھا،’’مودی حکومت جھوٹے وعدے کرنے اور اپنے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘