1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں، طالبان کمانڈر کی تصدیق

تحریک طالبان پاکستان کے نائب کمانڈر مولوی فقیر محمد نے تصدیق کی ہے کہ وہ امن ڈیل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی طالبان گزشتہ چار برس سے پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی طالبان مولوی فقیر محمد کا حوالہ دیتے ہوئےکہا ہے کہ یہ مذاکرات درست سمت جا رہے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے سربراہ اور پاکستانی تحریک طالبان کے نائب کمانڈر مولوی فقیر محمد نے کہا، ’اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور باجوڑ ایجنسی کے طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ کسی امن ڈیل پر دستخط کرتے دیتے ہیں تو سوات سمیت مہمند، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں کے طالبان بھی قیام امن کی ان کوششوں میں شامل ہوجائیں گے‘۔

مولوی فقیر محمد کےبقول باجوڑ ایجنسی میں قیام امن کی ڈیل، دیگر علاقوں میں سرگرم طالبان باغیوں کے لیے ایک مثال ثابت ہو گی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اسلام آباد حکومت نے خیر سگالی کے طور پر ان کے 145 ساتھیوں کو رہا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں باجوڑ ایجنسی کے طالبان نے فائر بندی پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔

NO FLASH Pakistan Charsadda Selbstmordanschlag Taliban

تحریک طالبان پاکستان کے باغی پاکستان کے اندر بھی حملوں میں ملوث رہی ہے

رواں برس ستمبر کے اواخر میں پاکستانی حکام نے قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے امن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ابھی تک حکومت پاکستان نے جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کی ان تمام خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جنگجوؤں کے ساتھ ان مبینہ مذاکرات کی خبروں پر واشنگٹن حکومت کو تحفظات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ان جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی کرے، کیونکہ یہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ افغانستان میں سرحد پار کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔

افغانستان کی سرحد سے ملحق باجوڑ ایجنسی کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کودہشت گرد تنظیم القاعدہ کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ گروپ افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹوکی افواج اور ان کے ٹھکانوں پر حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ برس اگست میں باجوڑ ایجنسی میں طالبان کی بغاوت کچلنے کی غرض سے عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والے اس فوجی آپریشن کے بعد ملکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس علاقے کو باغیوں سے خالی کرا لیا گیا تاہم مقامی ذارئع کے مطابق وہاں کئی علاقوں میں اب بھی ان طالبان کا کنٹرول قائم ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس