1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے ریستوران میں اب خواتین روبوٹس میزبان

صوفی مزاروں ، ذائقے دار آموں اور ہاتھ سے کی گئی کڑھائی کے لیے مشہور شہر ملتان کے ایک ریسٹورنٹ میں اب گاہکوں کو خوبصورت خواتین روبوٹس ایک دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ کھانا پیش کرتی ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رابعہ، اینی اور جینی ملتان میں پیزا ڈاٹ کام نامی ریسٹورنٹ میں گاہکوں کو پیزا پیش کرتی ہیں۔ ان روبوٹس کے خالق اور ریسٹورنٹ کے مالک اسامہ جعفری کا کہنا ہے کہ خواتین روبوٹس کی وجہ سے اُس کے ریسٹورنٹ میں گاہکوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔

ریستوران میں پیزا کھانے کے لیے آنے والے بارہ سالہ اسامہ احمد نے اے ایف پی کو بتایا،’’ ہم کئی جگہوں پر گئے ہیں، لیکن جب اس ریسٹورنٹ میں ہمیں ایک روبوٹ نے پیزا پیش کیا تو ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی۔‘‘

حامد بشیر نامی ایک اور گاہک  کا کہنا ہے،’’ یہ تخلیقی سوچ ہے، بچوں کے لیے یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ ایک روبوٹ انہیں کھانا پیش کرے۔‘‘

چوبیس سالہ اسامہ جعفری نے اسلام آباد کے تدریسی ادارے ’نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی‘ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ جعفری  نے اپنے والدین کی مدد سے روبوٹ کے پروٹوٹائپ پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ اُن کا کہنا ہے،’’ ہمیں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے، دوست، رشتہ دار اور مقامی افراد سب کو یہ آئیڈیا بہت پسند آیا ہے۔‘‘

اُسامہ جعفری نے بتایا کہ  اس روبوٹ کو پاکستان میں ہی مقامی دھاتوں اور آلات سے بنایا گیا ہے اور اس پر کُل  چھ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔  اب جعفری ایک ایسے روبوٹ پر کام کر رہے ہیں جو گاہکوں کے سوالات کے جوابات بھی دے سکے گا۔

ویڈیو دیکھیے 03:52

کیا اب روبوٹس بھی جذبات محسوس کر سکتے ہیں؟

Audios and videos on the topic