1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے خلاف امریکی عسکری کارروائی کی حمایت موجود

پاکستان کے اندر امریکی ڈرون حملوں سے بڑھ کر عسکری کارروائیوں کے لیے واشنگٹن کے ایوانوں میں حمایت بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اعلیٰ امریکی ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے حوالے سے بتایا کہ امریکی قانون ساز ہر صورت میں اپنی افواج کے دفاع کو یقینی بنائیں گے۔ ان کے بقول امریکی قانون ساز ان دنوں انتہائی سنجیدگی سے اس موضوع پر سوچ رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ناگزیر ہوا تو پھر فوجی کارروائی کے لیے حمایت میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ ان کا اشارہ افغانستان میں امریکی افواج پر ہونے والے حالیہ حملوں کی جانب تھا، جن میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کا حقانی نیٹ ورک ملوث سمجھا جاتا ہے۔

امریکی قیادت انتہائی واضح الفاظ میں پاکستانی فوج پر حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کا الزام عائد کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اب حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

US Soldaten bei Falludscha

امریکی حکام کے بقول وہ اپنی فوج کا دفاع ہر صورت میں ممکن بنائیں گے

 

حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش بھی ایک علامتی عمل ہو گا کیونکہ حقانی نیٹ ورک کے کوئی مالی اثاثے یا بین الاقوامی نوعیت کے تعلقات نہیں۔ روئٹرز کے مطابق اس کے تحت امریکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ اس کی فوج ایک دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کی سرپرستی کرتی ہے۔

امریکہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اہم اتحادی پاکستان پر شاکی ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا بازو قرار دے چکا ہے۔  اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سینیٹر گراہم کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ امریکی قانون ساز پاکستان کے اندر فضائی بمباری کی اجازت دے دیں۔ ادھر پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی بعض رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن پہلے ہی پاکستان بھر میں اسلام آباد کو ایسے کچھ اہداف کی نشاندہی کروا چکا ہے، جنہیں امریکہ دہشت گردی کے مراکز سمجھتا ہے۔

US Senatoren zum Start Abkommen

سینیٹر گراہام اپنے ایک ساتھی کے ساتھ صلاح و مشورہ کرتے ہوئے

گراہم کے بقول، ’’اس کا مطلب boots on the ground نہیں بلکہ امریکہ کے پاس ڈرون سے بڑھ کر بھی اور بہت سے اثاثے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ مثالی صورتحال تو یہ ہوگی کہ پاکستانی، افغان اور اتحادی افواج مل کر عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے نہ رہنے دیں۔

حقانی نیٹ ورک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس قریب ۱۵ ہزار جنگجو ہیں اور یہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ساتھ گہرے روابط رکھتے ہوئے مشرقی اور مرکزی افغانستان میں سرگرم ہے۔ حقانی نیٹ ورک گزشتہ ماہ افغان امن عمل میں اس شرط پر شرکت کا اعلان بھی کر چکا ہے کہ طالبان یعنی ملاعمر بھی اس پر تیار ہوں۔امریکی حکام پاکستان کی فوجی امداد محدود کرنے، بن لادن کی ہلاکت جیسے مزید آپریشن کرنے اور ڈرون حملوں میں شدت لانے کے عزائم ظاہر کر رہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM