1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے خارجہ تعلقات بہتر ہوئے ہیں، کھر

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد حکومت کے خارجہ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات اور امریکہ کے ساتھ علاقائی سلامتی کے وسیع تر معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر

حنا ربانی کھر نے یہ باتیں خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات سے دونوں ملکوں کے درمیان دیگر معاملات پر بھی پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے کہا: ’’میرے خیال میں اس پر وسیع تر اتفاق رائے ہے کہ ہمیں ان معاملات پر ایک ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

حنا ربانی نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضا بڑی حد تک سازگار ہوئی ہے۔ انہوں نے دونوں جانب سے پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کی حیثیت دیے جانے کے حوالے سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی بھی تردید کی۔ جمعے کو نامعلوم بھارتی اہلکار نے کہا تھا کہ پاکستان اندرون ملک مخالفت کی وجہ سے بھارت کو یہ حیثیت دینے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا: ’’کابینہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی منطوری سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ہفتے کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں ایسے الزامات مسترد کیے۔

Superteaser NO FLASH Pakistan Präsident Muhammad Yousaf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

روئٹرز سے گفتگو میں حنا ربانی نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام سے زیادہ خوشی ہمیں کسی اور بات سے نہیں ہو گی۔ میں گزشتہ چند ہفتوں پر نگاہ ڈالتی ہوں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مثبت پاتی ہوں۔ بنیادی طور پر یہ آپریشنل تفصیلات پر اتفاقِ رائے کا معاملہ ہے۔‘‘

پاکستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ہے۔ پاکستان پر اس نیٹ ورک کے ساتھ رابطوں کا الزام بھی لگایا جاتا ہے جبکہ اسلام آباد حکومت ایسے الزامات رد کرتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس