1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے حوالے سے برطانیہ کی غیر سرکاری خفیہ رپورٹ

برطانوی نشریاتی ادارے BBC نے کل بُدھ کے روز ایک intelligence رپورٹ کے اہم اقتصابات نشر کئے جس میں کہا گیا ہے کہ عراق کے خلاف امریکی جنگ نے دنیا بھر میں اسلامی انتہا پسندی کو مذید ہوا دی ہے۔ BBC کے مطابق یہ رپورٹ برطانوی وزارتِ دفاع کے ایک think tank کے لئے کام کرنے والے ایک intelligence افسر نے تیار کی ہے۔

صدرِ پاکستان جنرل مشرف کی سوانح عمری In the line of fire

صدرِ پاکستان جنرل مشرف کی سوانح عمری In the line of fire

اُس رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے لئے کی جانے والی کوششوں پربھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کی intelligence سروس ISI کو ختم کر دیا جانا جایئے کیونکہ وہ بلواسطہ طور پر طالبان کی حمایت کرتی ہے۔ BBC کے مطابق اِس رپورٹ کے مصنف کا بظاہر تعلق برطانوی خفیہ سروس MI6 سے ہے، اور وہ انسدادِ دہشت گردی کے لئے تیار کی گئی حکمتِ عملی میں شامل رہا ہے۔

برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اِس کا اور حکومت کا اِس رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اِن الزامات پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں وہ اِس معاملے کو اُٹھائیں گے۔ صدر مشرف نے رپورٹ میں لگائے گئے الزامات سختی سے مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں اور وہ افغانستان میں روپوش ہیں۔

صدر مشرف نے مغربی زرائع ابلاغ کو دئےے انٹرویو میں کہا کہ ISI سے پہلے MI6 کو ختم کیا جانا چاہئے اور یہ کہ ISI ایک منظم فورس ہے جس کی مدد سے ہی مغربی ملکوں کو سرد جنگ میں کامیابی ہوئی تھی۔ اِس متنازعہ رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے زریعے صدر مشرف کو اِس بات پر قائل کیا جانا چاہئےے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں، ملک میں آزادانہ انتخابات کو تسلیم کریں اور فوج کو واپس بیرکوں میں بھیجیں۔ برطانوی وزارتِ دفاع کی ایک ترجمان نے اِس رپورٹ کے مصنف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غالباً یہ اِس وقت اِس لئے منظرِ عام پر لائی گئی ہے تاکہ برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔