1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں، امریکہ

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ ان ہتھیاروں کی حفاظت پر کسی سمجھوتے کی باتوں پر قائل نہیں ہے۔

default

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اپنے ہتھیاروں کو درپیش خطرات سے آگاہ ہے اور ان کی حفاظت اس  کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹونر نے کہا: ’’ہمارا اعتماد بدستور قائم ہے کہ وہ مناسب اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ خارجہ کے اس بیان سے اس رپورٹ کو رد کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر شکوک ظاہر کیے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے امریکی جریدوں اٹلانٹک اور نیشنل جرنل نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے پاکستانی ہتھیاروں کی منتقلی کی خبر دی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے یہ ہتھیار امریکی جاسوس ایجنسیوں کی نظر سے بچانے کی غرض سے انتہائی کم سکیورٹی میں منتقل کیے۔

 رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہتھیاروں کی اس طرح منتقلی سے اسلام پسندوں کی جانب سے ان کی چوری کا خطرہ بڑا ہے۔ پاکستان نے یہ رپورٹیں سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں افسانہ قرار دیا تھا۔

Flash-Galerie Atommächte weltweit

پاکستان فوج جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے اضافی تعیناتیوں کا اعلان کر چکی ہے

اسلام آباد حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی کو اسے کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ رائے عامہ کو غلط سمت میں موڑنے کے لیے چلائے جانے والی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایسی مہم کوئی نئی بات نہیں ہے۔

بعدازاں پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے آٹھ ہزار اضافی افراد کو تربیت دی جا رہی ہے۔ فوج کے حوالے سے یہ بات خبررساں ادارے اے پی نے اپنی رپورٹ میں بتائی تھی۔

اے پی کے مطابق پاکستان اپنے نیوکلیئر پروگرام اور اس کی سکیورٹی کے بارے میں تفصیلات کم ہی ظاہر کرتا ہے، اور فوج کے اس اعلان کو اٹلانٹک اور نیشنل جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے ردِ عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس