1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کے تعاون کے بغیر خطے میں قیام امن ممکن نہیں، مک کین

امریکی ری پبلکن سینیٹر جان مک کین نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان یا خطے میں قیام امن کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ امریکی سینیٹر جان مک کین نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران کہا کہ افغانستان یا خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کا تعاون حاصل نہیں کیا جاتا۔ وہ افغانستان کے لیے امریکا کی نئی پالیسی پر غور کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان باہمی تعلقات بہتر بنائیں، چینی وزیر خارجہ

پاکستان سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی: ’زیادہ ڈرون حملے زیر غور‘

کابل حملے کے بعد انگلی حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کی طرف

میڈیا نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جان مک کین نے اتوار کے دن مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل قمر باجودہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے کہا، ’’شائد اب ہمارا تعلق ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔‘‘

امریکی سینیٹ میں آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئر مین مک کین کا مزید کہنا تھا، ’’ہم پاکستان کے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں کر سکتے ہیں۔‘‘ اس دورے میں امریکی سینیٹرز لنڈسی گراہم، الزبتھ وارَن،  شیلڈن وائٹ ہاؤس اور ڈیوڈ پرڈیو بھی مک کین کے ہمراہ تھے۔

گزشتہ ہفتے ہی دو امریکی اہلکاروں نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پاکستان کے بارے میں اپنے مؤقف میں سختی لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود جنگجو افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں کرتے ہوئے امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم اسلام حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

امریکی سینیٹرز سے ملاقات کے بعد سرتاج عزیز کا بھی کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں خطے میں قیام امن کی خاطر امریکا اور پاکستان کی اسٹریٹیجک پارٹنر شپ انتہائی اہم ہے۔ تاہم متعدد سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حکومت بالخصوص حقانی گروپ کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فعال یہ شدت پسند گروہ پناہ گاہیں بنائے ہوئے ہے اور افغانستان میں حملوں میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔

DW.COM